الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم، پی ٹی آئی کو بَلے کا نشان پھر واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال کر دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشد علی نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

بدھ کو تحریک انصاف کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم نے عدالت میں فیصلے کے حق میں دلائل دیے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے الیکشن کمیشن کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

بتایا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں بلے اور انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت کی، کیس میں الیکشن کمیشن سمیت 15 فریقین تھے جن میں اکبر ایس بابر، راجہ طاہر نواز، نورین فاروق و دیگر شامل ہیں، گZشتہ روز الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل مکمل ہوئے اور آج عدالت نے مزید فریقین اور ان کے وکلاء کو بھی سنا۔

دوران سماعت صوابی کے یوسف علی کے وکیل قاضی جواد ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ میرے مؤکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں، میرے مؤکل نے پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر سے معلومات لینا چاہیں جو ان کو نہیں ملیں، میڈیا سے پتا چلا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے، ہم نے درخواست کی کہ انتخابات کالعدم قرار دیے جائیں، میرے مؤکل انتخابات میں حصہ لینا چاہتے تھے مگر انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ ’آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائیں؟ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیے تو آپ کو چاہیے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے، آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیے تھا آپ نے نہیں کیا‘۔

وکیل قاضی جواد نے کہا کہ ’ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس لیے ان کے خلاف الیکشن کمیشن گئے‘، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ’پشاور میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے جو الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دیے، پشاور ہائی کورٹ کو پٹیشن سننے کا اختیار کیسے نہیں ہے؟‘ اس پر قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہیں، ہائی کورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے‘۔

جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ ’کیا ان کو ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا؟ انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کر سکتے؟‘ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ ’جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک ہیں؟‘ جس پر قاضی جواد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ’پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے، دائرہ اختیار کا سوال انتہائی اہم ہے، عدالتوں کے مختلف فیصلوں میں ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کا تعین ہوا ہے، پی ٹی آئی تو لاہور ہائی کورٹ بھی گئی، وہاں ان کی درخواست خارج ہوئی‘۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے لکھا ہے کہ ’پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں یہ کیس زیرِ سماعت ہے، پشاور ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں‘، اس پر قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’لاہور ہائی کورٹ نے کیس کو خارج کیا ہے‘، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ’وہ آرڈر آپ نے پڑھا ہے؟ اس میں کہا گیا ہے کیس پشاور ہائیکورٹ میں ہے اس لئے مداخلت نہیں کرتے‘۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ’کیا کوئی انتخابات بغیر نشان کے منعقد ہوئے؟ قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’ماضی میں نان پارٹی انتخابات ہوئے، پارٹیز ختم بھی ہوئیں تو نئی بن گئیں‘، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لاء کے دور میں ہوا ہے‘، وکیل قاضی جواد نے جواب دیا کہا کہ ’لیکن یہ سب ایک لیگل فریم کے اندر ہوا ہے‘، اس پر جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ ’اچھا آپ یہ بتائیں آپ کی پارٹی ہے تو کیا ان کو انتخابی نشان ملنا چاہیے؟‘ قاضی جواد نے کہا کہ ’میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے‘، بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں