سپریم کورٹ: سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سپریم کورٹ نے سابق آرمی چیف اور فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی لارجر بینچ نے متفقہ طور پر سابق فوجی صدر کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا خصوصی عدالت کی تشکیل غیرآئینی قرار دینے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ 17 دسمبر 2019 کو پشاور ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں بننے والی خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سُنایا تھا۔

تاہم 13 جنوری 2020 کو جسٹس مظاہر علی نقوی (موجودہ سپریم کورٹ جج) کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی ناصرف تشکیل کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ اس میں ہونے والی تمام تر کارروائی کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس درخواست میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتی تشکیل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر کی گئی اور لاہور ہائی کورٹ جو کہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے کیسے اس فیصلے کی حکم عدولی کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے اور اس شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مزکورہ جج نے اپنے اختیارات کاغلط استعمال کرتے ہوئے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔

جبکہ خصوصی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کے خلاف اپیل سابق صدر مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں