سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجواتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ صورت حال میں کام جاری رکھنا میرے لیے ممکن نہیں۔‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس زیر سماعت ہے جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے جب کہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی جب کہ جسٹس مظاہر نے آج اسی سلسلے میں کونسل کو اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا جس میں کہا گیا ہےکہ میرے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں، میں نے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے جواب میں خود پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھجا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف معلومات لے سکتی ہے لیکن کونسل جج کے خلاف کسی کی شکایت پرکارروائی نہیں کرسکتی۔

تفصیلی جواب میں کہا گیا ہےکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں، رولز کے مطابق کونسل کو معلومات دینے والے کا کارروائی میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطورپراسیکیوٹر تعیناتی پربھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ کونسل میں ایک شکایت کنندہ پاکستان بارکونسل بھی ہے، اٹارنی جنرل شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں اور بارکونسلز کی شکایات سیاسی اور پی ڈی ایم حکومت کی ایما پر دائر کی گئی ہیں۔

جسٹس مظاہر نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ پاکستان بار کی 21 فروری کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، شہباز شریف سے ملاقات کے روز ہی پاکستان بار نے شکایت دائر کرنے کی قرارداد منظور کی۔

جواب میں مزید کہا گیا ہےکہ شوکازکا جواب جمع کرانے سے پہلے ہی گواہان کو طلب کرنے کا حکم خلاف قانون ہے، یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مجھ سے کوئی بھی شخص باآسانی رجوع کرسکتا ہے، غلام محمود ڈوگر کیس خود اپنے سامنے مقررکرہی نہیں سکتا تھا، یہ انتظامی معاملہ ہے جب کہ غلام محمود ڈوگر کیس میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا تھا۔

جسٹس مظاہرنے اپنے جواب میں کہا کہ لاہورکینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا ہے، ایس ٹی جونزپارک والےگھرکی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا، گوجرانوالہ میں خریدا گیا پلاٹ جج بننے سے پہلے کا ہے اور اثاثوں میں ظاہر ہے،

جسٹس مظاہر کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور نہ ہی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا، زاہد رفیق نام کے شخص کو کوئی ریلیف دیا نہ ہی ان کے بزنس سے کوئی تعلق ہے، میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں، دونوں بیٹے وکیل اور2017 سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے آ رہے ہیں جب کہ جسٹس فائز کیس میں طے شدہ اصول ہے بچوں کے معاملے پر کونسل کارروائی نہیں کر سکتی۔

جواب میں مزید کہا گیا ہےکہ پارک روڈ اسلام آباد کے پلاٹ کی ادائیگی اپنے سیلری اکاؤنٹ سے کی تھی جب کہ الائیڈ پلازہ گوجرانوالہ سے کسی صورت کوئی تعلق نہیں ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں