سکیورٹی خدشات کے سبب انتخابات ملتوی نہیں ہوں گے: نگران وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنا کر آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاخیر سے متعلق قرارداد کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان کے نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ انتخابات وقت پر ہی ہوں گے اور امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنا کر آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سندھ کے رکن نثار احمد درانی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔ واضح رہے کہ نثار خان درانی ہی اس بینچ کی قیادت کر رہے ہیں، جس نے توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی کے بانی اور چیئرمین عمران خان کو چارج شیٹ کیا ہے۔

نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ سن 2008 اور 2013 کے ''عام انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال موجودہ صورتحال سے زیادہ خراب تھی لیکن انتخابات تب بھی کرائے گئے تھے۔''

انتخابات موخر کرنے سے متعلق سینیٹ کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کے بارے میں جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ایوان نے سیکورٹی خدشات اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تو اس کے جواب میں مرتضی سولنگی نے بس اتنا کہا کہ ''ایوان کو قرارداد پاس کرنے کا حق حاصل ہے۔''

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کی وزارت پارلیمانی امور کو بھیجی گئی قرارداد پر نگراں وزیر اعظم کے ساتھ بات کی ہے، تو انہوں نے کہا کہ ''نگراں حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔''

واضح رہے کہ ای سی پی نے پاکستان میں آٹھ فروری کو عام انتخابات کروانے کا اعلان کر کھا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی سینیٹ نے سکیورٹی خدشات اور شمالی علاقوں میں سخت سردی کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کو مزید ملتوی کرنے کے لیے ایک غیر پابند قرار داد منظور کی تھی۔

اس دوران پاکستانی فوج نے بھی آئندہ عام انتخابات میں ای سی پی کو تعاون فراہم کرنے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ''پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشارے پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مدد کرنے والوں سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔''

اس موقع پر صحافیوں نے ان سے یہ بھی سوال کیا کہ آخر ابھی تک انتخابی مہم میں جوش و خروش کا ماحول کیوں نہیں ہے، تو انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم لڑنے والے امیدواروں کی حتمی فہرست کے اعلان کے بعد زور پکڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی مہم شروع کرنے والی ہیں اور آنے والے دنوں میں سرگرمیاں مزید تیز ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 15 جنوری کو ریلی کرنے کا شیڈول جاری کیا ہے۔

جب ان سے پی ٹی آئی کے آن لائن پروگراموں کے دوران انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں پوچھا گیا تو نگراں وزیر نے اسے تکنیکی مسائل بتا کر ٹالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ''وجوہات تکنیکی تھیں اور ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں