ٹیکنالوجی سے چلنے والی 'سیلون-ایٹ ہوم'سروس پاکستانی خواتین کے لیے مالی آزادی کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

دو بچوں کی ماں 40 سالہ صائمہ وکٹر دو عشروں سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے پررونق بندرگاہی شہر کراچی میں بیوٹیشن کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اگرچہ وہ ماہانہ 40,000 روپے ($142) کماتی تھیں لیکن سیلون میں ان کی 10 گھنٹے کی نوکری اور کام کے لیے آنے جانے کی وجہ سے ان کے پاس بہت کم وقت اور توانائی باقی بچتی تھی کہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گذاریں۔

جون 2022 میں وکٹر نے کلائنٹس تلاش کرنے کے لیے سنگاپور میں قائم ہوم سروسز فراہم کرنے والی ایپ ہیلپ کا استعمال شروع کیا اور تب سے انہیں مالی آزادی اور کام اور زندگی کے درمیان توازن کے لیے ایک نیا راستہ مل گیا ہے۔ اب وہ 35 بیوٹیشنز میں سے ایک ہیں جو اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں ایپ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جہاں وقت اور پیسہ اکثر قیمتی اشیاء میں شامل ہیں۔

وکٹر جو کبھی بیوٹیشن کی روایتی ملازمت کی رکاوٹوں تک محدود تھیں، کہتی ہیں کہ اب وہ ایک ترقی پزیر بیوٹیشن ہیں اور انہوں نے ہیلپ کے ذریعے اپنی آمدنی دوگنا ہوتے دیکھی ہے جو پاکستان کے کراچی اور لاہور شہروں میں آن ڈیمانڈ سیلون، لانڈری، پینٹ اور ایئر کنڈیشنگ کی خدمات پیش کرتی ہے۔

گاہک کو سروس دینے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنے بیگز پیک کرتے ہوئے وکٹر نے عرب نیوز کو بتایا، "رجسٹریشن سے پہلے میں صبح 11 بجے سے شام 9 بجے تک سیلون میں کام کرتی تھی اور بچوں کی مناسب نگہداشت کرنے سے قاصر تھی۔ ٹیکنالوجی کے عروج نے کافی تک مالی بوجھ کو کم کر دیا ہے۔"

"جس سیلون میں میں پہلے کام کرتی تھی، وہاں میری تنخواہ 40,000 روپے ماہانہ مقرر تھی لیکن جب سے میں نے اسٹارٹ اپ میں شمولیت اختیار کی ہے، آمدنی دگنی سے زیادہ ہو کر 80,000 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے۔"

وکٹر کو اپنے موبائل فون پر براہِ راست گاہکوں سے بکنگ کے آرڈر ملتے ہیں جبکہ اس کے شوہر جوزف وکٹر انہیں شہر کے مختلف علاقوں میں گاہکوں کے پاس لے جاتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے کے روایتی اصولوں سے ہٹ کر جوزف نے آٹو ورکشاپ میں یومیہ اجرت پر کام کرنا چھوڑ دیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈرائیور کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا کہ ان کی شریکِ حیات بلا تعطل اپنے وعدہ شدہ کام کے لیے جا سکیں۔

وہ کہتے ہیں کہ "اپنی اہلیہ کو شہر میں سفر کی بڑی پریشانی سے بچاتے ہوئے ہم مل کر جو کماتے ہیں" وہ اس آمدن سے خوش ہیں۔

اس متحرک تبدیلی نے وکٹر اور ان کے شوہر کو ایک معمولی لیکن بااختیار آمدنی کی پیشکش کرتے ہوئے صنعت میں اپنی جگہ بنانے کے ذرائع فراہم کیے ہیں۔

2022 میں ایپ میں شامل ہونے والی ایک اور 26 سالہ بیوٹیشن نویزہ کامران کہتی ہیں کہ اس نے ان کی آمدنی 20,000 روپے ($71) سے بڑھا کر 50,000 روپے ($177) سے زیادہ کرنے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا، "میرے شوہر ایک فرنیچر مارکیٹ میں کام کرتے ہیں جہاں انہیں کبھی کام مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔" اور مزید کہا ہیلپ کے ذریعے وہ اپنے گھریلو اخراجات کا بوجھ مل کر اٹھا سکتی ہیں۔

پاکستان میں معاشی چیلنجوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں مختلف شعبوں میں آن لائن پلیٹ فارم گھرانوں کے لیے ایک اہم سہارے کے طور پر ابھر رہے ہیں جو سنگین معاشی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ فراہم کر رہے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وکٹر اور کامران جیسی بیوٹیشنز کی مالی پریشانیوں اور وقت کی پابندیوں کو دور کر رہی ہے بلکہ یہ صارفین کو سیلونز میں طویل انتظار، ٹریفک جام اور نقل و حمل کے اخراجات سے بھی بچا رہی ہے۔

ایک 26 سالہ ٹیچر سعدیہ بلال جنہوں نے وکٹر کے ساتھ ایک بکنگ کروائی، کا خیال تھا کہ کسی کے کمفرٹ زون میں اقتصادی خدمات ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا بہترین آپشن ہیں۔

بلال نے عرب نیوز کو بتایا، "مجھے ایک تقریب میں جانا تھا اور باہر جانے اور بھاری ٹریفک کا سامنا کرنے اور بھاری قیمت ادا کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آن لائن خدمات حاصل کرنا میرے لیے آسان ترین تھا۔"

"میں سستی قیمتوں پر خدمات حاصل کر رہی ہوں اور وہ بھی آرام و سکون میں اپنے گھر بیٹھ کر۔"

ہیلپ کے حکام کہتے ہیں کہ خواتین نے ان کی ایپ کا استعمال کرکے اپنی آمدنی میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔

ہیلپ میں کیٹیگری ہیڈ اسرا انوار الحق نے کہا، "اگر ہم سیلون سروسز کے آف لائن ماڈل کو دیکھیں تو یہ بیوٹیشن ہر ماہ تقریباً 10,000 سے 25,000 روپے کما رہی ہیں اور روزانہ 12 سے 15 گھنٹے تک غیر معمولی کام کر رہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑنا پڑ رہا ہے۔"

"جو ہم انہیں فراہم کر رہے ہیں وہ کام کے لچکدار اوقات ہیں۔ ہم نے آف لائن مارکیٹ کے مقابلے میں ان کی آمدنی میں 5 گنا اضافہ کیا ہے۔"

سیلون کیٹیگری کے پسِ پردہ جو نظریہ تھا، اس کے بارے میں حق نے کہا کہ ان کے اسٹارٹ اپ ہیلپ ٹیکنالوجی نے کووڈ-19 وبائی امراض کے بعد مارکیٹ میں 'سیلون-ایٹ-ہوم' کا موقع دیکھا کیونکہ کئی لوگوں نے اس قسم کی سیلون سروسز کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔

حق نے کہا ان کے پلیٹ فارم کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں پاکستان میں تقریباً 100,000 خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔

انہوں نے کہا، "بنیادی طور پر ہمارا ہیلپ کا نظریہ مجموعی طور پر آئندہ سالوں میں تقریباً 100,000 خواتین کو متأثر کرنا ہے۔" اور مزید کہا کہ مقصد انہیں مالی طور پر خود مختار بنانا تھا۔

کامران جنہوں نے حال ہی میں اپنے لیے واشنگ مشین خریدی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے شوہر کو کام پر جانے کے لیے ایک موٹر سائیکل بھی تحفے میں دی ہے، نے کہا کہ انہوں نے ان چیزوں کے خواب دیکھنا چھوڑ دیئے ہیں جو وہ چاہتی تھیں کیونکہ اب وہ انہیں خرید سکتی ہیں۔

کامران نے عرب نیوز کو بتایا، "میں اب چیزوں کے خواب نہیں دیکھتی۔ اب میں چیزیں خرید سکتی ہوں کیونکہ میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے قابل ہوں جس نے مجھے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں