خواتین کی حالت زار سے پردہ اٹھاتی "وکھری"مقتولہ سوشل میڈیا سٹارکی زندگی پر مبنی کہانی

خاتون ڈائریکٹر کا سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل اور خواتین کو درپیش چیلنجز کے بارے میں جذبات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستانی فلم "وکھری" کی ڈائریکٹر نے رواں ہفتے اپنی فلم کے حوالے سے ایک انٹرویو میں کہا، یہ فلم سوشل میڈیا کی معروف شخصیت مقتولہ قندیل بلوچ کی زندگی سے متأثر ہو کر بنائی گئی ہے جو جنوبی ایشیائی ملک میں خواتین کو درپیش چیلنجز سے پردہ کشائی کرتی ہے اور اس پروڈکشن کا مقصد معقول طریقے سے زمینی حقائق کی عکاسی کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر بیباکانہ موجودگی کی وجہ سے قندیل بلوچ کو 2016 میں ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا جو کہتا تھا کہ وہ خاندان کی بدنامی کا باعث بن رہی تھیں۔ ان کی حقیقی زندگی کے سانحے کی عکاسی کرتے ہوئے فلم میں نور نامی ایک بیوہ اسکول ٹیچر کی عکاسی کی گئی ہے۔

پاکستان کے دیہی علاقوں کے پس منظر میں بنائی گئی فلم "وکھری" جس کا مطلب پنجابی میں "مختلف قسم کی" ہے، ایک کردار نور کی سوشل میڈیا پر شہرت کی کہانی ہے جو پاکستانی خواتین کی وسیع تر جدوجہد کو پردۂ سیمیں پر پیش کرتی ہے۔

5 جنوری کو پاکستان میں ریلیز سے قبل اس فلم کا گذشتہ ماہ ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ورلڈ پریمیئر ہوا تھا۔ اس وقت ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش پذیر یہ فلم ایک معاشرتی تبصرے کا کام کرتی ہے اور اسے ناظرین کی طرف سے ملا جلا ردِعمل ملا ہے۔

وکھری کی مصنفہ، ڈائریکٹر اور معاون پروڈیوسر ارم پروین بلال نے عرب نیوز سے ایک خصوصی انٹرویو میں بلوچ کے قتل سے بہت پہلے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا جب دسمبر 2007 میں سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کو انتخابی مہم کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی بہادر خاتون کو نیچا دکھایا جاتا ہے تو یہ بہت ذاتی سا لگتا ہے۔ "یہ ایسے ہی ہے کہ 'آپ کی جرأت کیسے ہوئی؟' 'آپ کی جرأت کیسے ہوئی اس لائن کو عبور کرنے کی؟'

انہوں نے مزید کہا، "ہم فلم میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اتنا حقیقت پسندانہ ہے کہ بعض اوقات سمجھ نہیں آتی کہ یہ فلم میں ہو رہا ہے یا حقیقی زندگی میں۔ "قندیل کے ساتھ یہ مزید نمایاں ہوا۔ وہ کئی عشروں کے صنفی تعصب اور غصے سے پردہ کشائی کی علامت اور ایک بنیادی انسانی حق کا ردِعمل بن گئی جو آزادئ اظہار کا حق ہے۔

بلوچ پاکستان میں قدامت پسندی کے اصولوں کے بالکل برعکس سوشل میڈیا پر ناز و ادا سے بھرپور اور معاشرتی طریقوں سے منحرف پوسٹس کے لیے مشہور ہوئیں۔ ان کے بھائی محمد وسیم جس نے ان کے مشتعل رویئے کو "ناقابلِ برداشت" قرار دیا، کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔ اسے 2022 میں والدین کی طرف سے غیرت کے نام پر بہن کے قتل پر معافی ملنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

نور اور وکھری کا دوہرا کردار ادا کرنے والی فریال محمود کہتی ہیں کہ پروجیکٹ کی نوعیت نے انہیں فلم سائن کرنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں نے ہمیشہ ایسی چیز کا انتخاب کیا ہے جسے ہر کوئی منتخب نہیں کرتا جو سچائی، ایمانداری [اور] حقیقت پر مبنی ہو کہ ہم ایک معاشرے کے طور پر کیسے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "جو لوگ کردار کو دیکھ رہے ہیں، انہیں وکھری سے پیار ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے سحر میں گرفتا ہو جاتے ہیں۔ وہ وکھری جیسا بننا چاہتے ہیں۔"

بلال نے کہا کہ فلم کے بعد سوشل میڈیا ٹرولز سے نمٹنے میں آپ "تھک" جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہا کہ یہ اپنے طریقے سے [لوگوں کے خیالات کا] اظہار بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "مجھے یہ بہت دلچسپ لگتا ہے کہ [لوگ] کس طرح فلم اور [اس کے مرکزی] کردار کو بہت 'بیباک' کہتے رہتے ہیں۔ مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ ایک عورت جو صرف اپنی ذات کا اظہار کرتی ہے وہ بیباک ہے۔"

پاکستان میں پرورش پانے والی لیکن امریکہ میں رہائش پذیر ارم پروین بلال نے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا وہ اس کی پروگرامنگ ٹیم بالخصوص اس کے سربراہ کلیم آفتاب کو سراہتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم نے اصل میں پہلے اسے [فلم] دکھائی۔ اس نے فلم دیکھی اور مجھے تمام سوشل میڈیا [پلیٹ فارمز] اور فون نمبرز پر میسج کرنا شروع کر دیا۔ وہ کہتا تھا، 'مجھے یہ بہت اچھی لگی ہے۔ ہم کب بات کر سکتے ہیں؟'

انہوں نے مزید کہا، "[ریڈ سی فلم فیسٹیول میں ردِعمل] واقعی زبردست تھا۔ وکھری نے پریس کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ پوری جیوری عالمی پریمیئر میں ذاتی طور پر موجود تھی اور اسے بڑی اسکرین پر دیکھ رہی تھی۔ یہ اتنا خوبصورت وقت تھا۔ جدہ میں موسم خوشگوار تھا۔ ہم نے عمرے کی سعادت حاصل کی۔ میں نے دو بار کی۔ ٹیم نے مل کر عمرہ کیا۔"

اگرچہ فلمساز وکھری کو بین الاقوامی سطح پر ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔

محمود نے کہا، "فلم کی ریلیز سے پہلے میں تھوڑی فکرمند تھی اور میں نے یہ دیکھی نہیں تھی۔ لوگ اسے کیسا سمجھیں گے، وہ اسے ہضم کر پائیں گے یا نہیں وغیرہ۔"

"اب جیسے میں دیکھ رہی ہوں کہ جب خواتین [اور] نوجوان لڑکیاں تھیٹر سے باہر نکلتی ہیں اور جو باتیں وہ وکھری کے بارے میں کہتی ہیں تو میں دیکھتی ہوں کہ [پاکستان میں] تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ میں دیکھتی ہوں کہ وہ ترقی کر رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں