ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی ہم منصب جلیل عباس جیلانی سے ٹیلی فونک رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں پاکستانی وزیر خارجہ نے بلوچستان میں ایران کی کارروائی پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جلیل عباس جیلانی کو فون کیا۔

وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ایرانی حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے دو طرفہ باہمی تعلقات کی روح کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے اس اقدام سے دوطرفہ تعلقات کو گہرا دھچکا پہنچا ہے اور ایرانی حملے کے جواب میں پاکستان ردعمل کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان اور ایران کا مشترکہ مسئلہ ہے جس کے خلاف ہمیں مل کر لڑنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

ایران کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان نے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا اور ایرانی سفیر کو پاکستان واپس نہ آنے کی ہدایت کی تھی۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نور نیوز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان نے ایران سے سفیر کو واپس بلانے کا بھی اعلان کر دیا۔

ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو بدھ اور جمعرات کی رات تہران سے روانہ ہوں گے اور اسلام آباد پہنچیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا تھا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تمام اعلیٰ سطحی تبادلوں کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں