پاکستان کا ایران سے اپنا سفیر واپس بلانے اور ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیے ہیں۔

پاکستان نے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایرانی سفیر، جو کہ ان دنوں تہران میں ہیں، سے فی الوقت پاکستان نہ آنے کا کہا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان اور ایران کے جاری اور مستقبل قریب میں طے شدہ اعلیٰ اختیاراتی وفود کے دورے بھی اس پیش رفت کے بعد فوری طور پر ختم کئے جا رہے ہیں۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہاکہ پنجگور میں کیے گئے حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کی خود مختاری پر حملہ یو این چارٹر کی خلاف ورزی اور ایرانی جارحیت کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا ’’کہ پاکستان اس غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘

ممتاز زہرا بلوچ نے کہاکہ ایران نے جارحیت کو چھپانے کے لیے جیش العدل کے جھوٹے بیانیے کا سہارا لیا۔ ہم نے اپنا پیغام ایرانی حکومت تک پہنچا دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان میں ایرانی سفیر اس وقت ایران کے دورے پر ہیں لہٰذا وہ ابھی واپس نہ آئیں، ایران کا یہ غیر قانونی عمل مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کی سرحد سے منسلک علاقے پنجگور میں میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے کالعدم تنظیم جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کیا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی حکام نے ایرانی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ اور موقف اختیار کیا تھا کہ خودمختاری پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں