سفارتی تعطل کے بعد پاکستان کی سرحد پر ایرانی پاسداران انقلاب کا افسر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اورسفارتی تعطل کے بعد صوبہ بلوچستان کی سرحد پر ایک ایرانی افسر کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (IRNA) نے بدھ کی شام اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن کو پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر واقع ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ "مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششیں جاری ہیں"۔

ایرانی مہر نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب میں کرنل کے عہدے کے ایک سینیر افسر کے قتل کی تصدیق کی ہے اور اس کی شناخت حسین علی جوادانفرکے نام سے کی گئی ہے۔ انہیں اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ایک مشن کے بعد واپس جا رہے تھے۔

پاکستان ۔ ایران کشیدگی اور سفارتی تعطل

قبل ازیں بدھ کو پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیے ہیں۔

پاکستان نے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایرانی سفیر، جو کہ ان دنوں تہران میں ہیں، سے فی الوقت پاکستان نہ آنے کا کہا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان اور ایران کے جاری اور مستقبل قریب میں طے شدہ اعلیٰ اختیاراتی وفود کے دورے بھی اس پیش رفت کے بعد فوری طور پر ختم کئے جا رہے ہیں۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہاکہ پنجگور میں کیے گئے حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کی خود مختاری پر حملہ یو این چارٹر کی خلاف ورزی اور ایرانی جارحیت کا ثبوت ہے۔

جیشن العدل کے ارکان
جیشن العدل کے ارکان

انہوں نے کہا ’’کہ پاکستان اس غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘

ممتاز زہرا بلوچ نے کہاکہ ایران نے جارحیت کو چھپانے کے لیے جیش العدل کے جھوٹے بیانیے کا سہارا لیا۔ ہم نے اپنا پیغام ایرانی حکومت تک پہنچا دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان میں ایرانی سفیر اس وقت ایران کے دورے پر ہیں لہٰذا وہ ابھی واپس نہ آئیں، ایران کا یہ غیر قانونی عمل مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کی سرحد سے منسلک علاقے پنجگور میں میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے کالعدم تنظیم جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کیا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی حکام نے ایرانی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ اور موقف اختیار کیا تھا کہ خودمختاری پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں