پاکستان کی سلامتی، قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: ترجمان دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’’پاکستان نے مصدقہ اطلاعات پر ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن کیا، ملکی سلامتی اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہم جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے؛ اور جانتے ہیں کہ کچھ دن پہلے ہونے والے حملوں کی وجہ سے صورت حال پیچیدہ ہو گئی ہے۔‘‘

ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔‘

ممتاز زہرا نے مزید کہنا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ ہم بشمول ایران اپنے تمام ہمسایوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عسکریت پسند سرمچار کے نام سے ایران میں پناہ لیتے تھے۔ پاکستان نے کئی بار ایران کے ساتھ ثبوت شیئر کیے۔ پاکستان ایران کی سالمیت اور خودمختاری کی پوری عزت کرتا ہے لیکن یہ حملہ پاکستان نے اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع میں کیا۔ پاکستان کسی کو اپنی خود مختاری اور سالمیت کو چیلینج نہیں کرنے دے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعظم نے موجود صورت حال کے تناظر میں ڈیووس میں اپنا دورہ مختصر کر دیا ہے جبکہ وزیر خارجہ جو اس وقت یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں غیر وابستہ ملکوں کی تحریک کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، انہوں نے بھی اپنا دورہ مختصر کر دیا ہے۔‘

ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ حالیہ پیش رفت سے متعلق آپریشنل تفصیلات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جلد سامنے آئیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کا مکمل احترام کرتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ ’ایرانی فوجیں پھر سے حملے کی تیاری کر رہی ہیں؟ کیا ایران نے پاکستان سے وضاحت طلب کی ہے؟‘

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں افواہوں پر بات نہیں کروں گی لیکن پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ پچھلے دو سے تین گھنٹے میں مجھے کسی بات چیت کا علم نہیں۔‘

کسی تیسرے فریق کی مصالحتی کوشش؟

پاکستان اور ایران کے درمیان ثالثی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تک مجھے کسی تیسرے فریق کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا کوئی علم نہیں۔‘

پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا، پاکستان اور ایران کے درمیان گفتگو کے مختلف چینلز موجود ہیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔

بعد ازاں گذشتہ روز پاکستان نے ایران سے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تمام اعلیٰ سطحی تبادلوں کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ایران کے سفیر، جو اس وقت ایران میں ہی ہیں، ان کو بھی پاکستان واپس نہ آنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

بعد ازاں آج پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان وبلوچستان میں بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد گروہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں