پاک-ایران کشیدگی: سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

پاکستان کے جوابی حملے کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافے کے خدشات پر، انڈیکس میں منفی ردعمل، ایک ہزار پوائنٹس کی کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1029 پوائنٹس کمی کے بعد 63 ہزار کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا۔

پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق صبح تقریباً 10 بج کر 08 منٹ پر انڈیکس 1029 پوائنٹس کمی کے بعد 62 ہزار 537 کی سطح پر آ گیا، جو گذشتہ روز 63 ہزار 567 پر بند ہوا تھا۔

بازار حصص پر نظر رکھنے والے حلقے سٹاک مارکیٹ میں اس تنزلی کو پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی خبروں سے منسلک کر رہے ہیں۔

انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ایکویٹی رضا جعفری نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کے ساتھ تنازع سے لگتا ہے کہ سرمایہ کاروں کے جذبات متاثر ہوئے ہیں، جس کے سبب متحدہ عرب امارات سے قرض میں توسیع اور مثبت کرنٹ اکاؤنٹ کے اثرات کو زائل کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ آج پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں مربوط ٹارگٹڈ جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد گروہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔

اس سے دو روز قبل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔

بعدازاں گذشتہ روز پاکستان نے ایران سے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کردیا، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تمام اعلیٰ سطحی تبادلوں کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں