ڈیووس: پاکستان اورٰیو اے ای کے 3 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط

فریقین نے عالمی اقتصادی فورم میں متعدد شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدات کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک پاکستانی اہلکار نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ریلوے، اقتصادی زونز اور انفراسٹرکچر میں تعاون کے لیے 3 بلین ڈالر سے زائد کے متعدد معاہدات پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کے ورلڈ اکنامک فورم کے 54ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ڈیووس، سوئٹزرلینڈ کے دورے کے دوران یہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔

پاکستان ریلوے کے سیکرٹری سید مظہر علی شاہ کے ایکس پر اشتراک کردہ ایک بیان کے مطابق معاہدات میں ایک سرگرم فریٹ کاریڈور، ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک اور فریٹ ٹرمینلز کی ترقی کا احاطہ کیا گیا ہے۔

دبئی میں قائم اماراتی ملٹی نیشنل لاجسٹک کمپنی ڈی پی ورلڈ اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر پاکستان کے معروف تجارتی گیٹ وے قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میں انفراسٹرکچر کی بہتری کا کام کرے گی۔ اماراتی فرم ٹرمینل کے قریب ایک اقتصادی زون تیار کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

معاہدوں پر پاکستان کے وزیر برائے مواصلات، ریلوے و سمندری امور شاہد اشرف تارڑ اور دبئی حکومت کے بندرگاہوں، کسٹمز اور فری زون کارپوریشن (پی سی ایف سی) کے چیئرمین عزت مآب سلطان احمد بن سلیم نے دستخط کیے۔

تارڑ نے ڈیووس میں دستخطی تقریب میں کہا، "باہمی طور پر فائدہ مند مصروفیات ڈی پی ورلڈ کی پاکستان میں ایک طویل عرصے سے قابلِ فخر موجودگی کی گواہ ہیں۔ غیر متزلزل اعتماد اور شراکت کی بنیاد پر دونوں برادر ممالک نے عہدساز منصوبوں کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

"سرمایہ کاری فریم ورک کے معاہدوں پر دستخط ایشیا کے لیے گیٹ وے کے طور پر پاکستان کی اہمیت اور اس کے تزویراتی مقام سے وابستہ تجارتی منافع کو نمایاں کرتے ہیں۔"

سلطان احمد بن سلیم جو ڈی پی ورلڈ کے سی ای او بھی ہیں، نے کہا پاکستان ایک بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے اور انہیں اس کی تجارتی صلاحیت میں شریک ہونے پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا، "پاکستان ایک بڑھتی ہوئی مارکیٹ اور وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری ہے۔ ہمیں قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر اپنے آپریشنز کے ذریعے اس کی تجارتی صلاحیت میں شرکت کرنے پر فخر ہے اور ہمیں پاکستان کی مختلف سرکاری تنظیموں کے ساتھ نئے فریٹ سسٹمز اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ پورٹ کنیکٹیویٹی اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔"

"یہ اقدامات پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی خدمت کرنے، آئندہ عشرے میں 300 ملین تک پہنچنے کی پیشن گوئی اور اسے مزید وسیع خطے سے ملانے میں مددگار ہوں گے۔"

منصوبوں کی ترقی کے لیے دبئی حکومت کی جانب سے ڈی پی ورلڈ جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے ریلویز اور پورٹ قاسم اتھارٹی کام کرے گی۔

ریل پر مبنی سرگرم فریٹ کوریڈور بحیرۂ عرب میں کراچی پورٹ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور پپری مارشلنگ یارڈ تک چلانے کا منصوبہ ہے۔ اس سے سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بندرگاہی شہر کراچی میں ہجوم کم ہو گا۔ شاہ کے مطابق یہ کارکردگی اور نقل و حمل کے اوقات کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا اور لاجسٹکس کی مجموعی لاگت کو کم کرے گا۔

دو دیگر بین الحکومتی فریم ورک معاہدات کا مقصد سمندری اور لاجسٹکس کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

شاہ نے کہا کہ پاکستان کی وزارتِ سمندری امور کے ساتھ نقل و حمل کے ایک چینل کی کھدائی کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک معاہدے سے پورٹ قاسم پر ایک اقتصادی زون کی ترقی بھی ہو گی جس کا مقصد 3 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔" اور مزید کہا کہ اس کا مقصد پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں