شوکت عزیز صدیقی کے الزامات من گھڑت ہیں، فیض حمید کا سپریم کورٹ میں جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجینس [آئی ایس آئی] لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی کیس میں اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کراتے ہوئے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض حمید کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر اور جوڈیشل کونسل کے سامنے کسی مبینہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا۔ جواب کے مطابق شوکت عزیز صدیقی خود مان چکے کہ مبینہ ملاقات میں کی گئی درخواست رد کی گئی تھی۔

فیض حمید نے موقف اختیار کیا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی سے کبھی رابطہ نہیں کیا، ان سے ملا نہ ہی نواز شریف کی اپیلوں پر بات ہوئی۔ جواب کے مطابق فیض حمید نے شوکت عزیز صدیقی کو کبھی نہیں کہا کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بعد میں آنے والے خیالات کے مترادف ہیں۔

دوسری جانب سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کانسی نے بھی اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

جسٹس (ر) انور کانسی نے بھی شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ اس کے علاوہ بریگیڈیئر (ر) عرفان رامے کا جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع ہو گیا ہے۔ عرفان رامے نے بھی شوکت عزیز صدیقی کے الزامات اور ملاقات کی تردید کر دی ہے۔

واضح رہے کہ 15 دسمبر 2023 کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی اپنی برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید، بریگیڈیئر (ر) عرفان رامے، سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کاسی اور سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو نوٹس جاری کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ شوکت عزیز صدیق کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے لیے بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔

بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا اور ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر ابتدا میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات لگائے گئے تھے تاہم فروری 2019 میں سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی تھی۔

جس کے بعد ان کی اپیل پر سماعت تاخیر کا شکار ہوئی تھی جس پر انہوں نے جسٹس پاکستان کو مختلف خطوط لکھے جن میں کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

نومبر 2020 کے اختتام پر انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان کے نام بھی ایک خط لکھا تھا جو بظاہر ان کا تیسرا ایسا خط تھا جس میں کیس کی جلد سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔

اس طرح کے ایک خط میں سابق جج نے لکھا تھا کہ ایک عام شہری/قانونی چارہ جوئی کرنے والے کے لیے موجود حقوق کا ان کے لیے انکار نہیں کیا جائے گا اور ان کے ساتھ شخصی نقطہ نظر کے ذریعے عدالتی دفتر کی جانب سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

اس خط کا موضوع شوکت عزیز صدیقی بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کے عنوان سے آئینی درخواست 2018/76 کے نمٹانے میں طویل تاخیر سے متعلق تھا۔

خط میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ وہ 11 اکتوبر 2018 سے دفتر سے نکالے گئے اور انہیں دوبارہ ملازمت بھی نہیں دی گئی۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا تھا کہ یہ عالمی سطح پر قانون کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ ’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتی ہے‘۔

سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے لکھا کہ ’میرے کیس میں اس کی خاص مثال ملتی ہے جہاں بینچ کے واضح احکامات کے باوجود درخواست کو کبھی خود سے مقرر نہیں کیا گیا اور ہر مرتبہ میں نے تحریری درخواستوں کے ذریعے آپ (چیف جسٹس) تک رسائی حاصل کی‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’میری حیرانی اور مایوسی کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن دفتر کی جانب سے درخواست کو مقرر کرنے سے متعلق کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے کیس میں ان کی اپیل پر منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں