بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اسلام آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان

ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے پریس کلب کے باہر نیوز کانفرنس میں 27 جنوری کو کوئٹہ میں جلسے کا اعلان کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر جاری اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو نیشنل پریس کلب کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی منتظم ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے 27 جنوری کو کوئٹہ میں جلسے کا اعلان کیا اور کہا کہ ’کل ہم باقاعدہ بلوچستان کی طرف روانہ ہوں گے، آج ہم اپنی تحریک کے چوتھے مرحلے کے اختتام کا اعلان کرتے ہیں۔‘

ماہرنگ بلوچ نے کہا کہ یہاں سے جو نفرت کا پیغام دیا گیا، وہ پیغام ہم بلوچستان لے کر جائیں گے، ہم یہاں سے نفرت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں، ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کچھ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پریس کلب اسلام آباد کا کل کا نوٹیفکیشن پوری صحافت پر داغ ہے، اسلام آباد میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، وہ پورے بلوچستان کو بتائیں گے۔ ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں جھوٹے سکیورٹی تھریٹس پھیلائے جا رہے ہیں، جس سے یہاں رہنے والے لوگ پریشان ہیں۔‘

ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’ہمارے دھرنے کے سامنے بلوچستان کے بدنام زمانہ لوگوں کو لا کر بیٹھا دیا گیا ہے۔ ریاست کی جانب سے ہونے والے رویے سے بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں مزید نفرت بڑھی ہے۔‘

انہوں نے ’ہمیں امید تھی کہ یہ لوگ اسلام آباد میں ہماری آواز کو سنیں گے۔ ہماری تحریک کے حوالے سے میڈیا کا کردار بہت مایوس کن رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک عوامی تحریک ہے جس کے پیچھے بلوچستان کی عوام کھڑی ہے۔ عوامی تحریکوں کو تشدد اور طاقت سے نہیں روکا جا سکتا۔ یہ تحریک اب محروم لوگوں کی مکمل آواز بن چکی ہے، بلوچستان سے لاکھوں لوگ اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے پر ہمارے پر امن احتجاج پر لاٹھیاں برسائی گئی ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی ہمیشہ پرامن رہی ہے اور اپنی اس تحریک کو اختتام تک لے کر جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں