جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

محتاط چلنا ہوگا کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو: سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیزصدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس پاکستان نے وکیل خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور عرفان رامے کا وکیل ہوں۔

چیف جسٹس نے وکیل خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ شوکت صدیقی کے الزامات تسلیم کر رہے ہیں یا مسترد؟ وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ہم تمام الزامات مسترد کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سابق رجسٹرار سپریم کورٹ نے بھی جواب جمع کرایا ہے۔

شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانی چاہیے تھی، انکوائری میں ہمیں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا انکوائری کی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر تسلیم کر لی تھی تو انکوائری نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ چکے حقائق کی انکوائری نہیں ہوئی، اب بتائیں کیا تجویز کرتے ہیں، کارروائی کیسے چلائیں؟

شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید الزامات کی تردید کررہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہیے تھی، اس میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا۔

اگر شوکت صدیقی کے الزامات سچے نہیں تو کیا ہوگا؟ شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں، کون سچا ہے کون نہیں یہ پتہ لگانے کیلئے کیا کرنا ہو گا؟ انکوائری میں الزامات درست ثابت ہوں مگر لگائے پبلک میں پھر بھی ہٹایا جا سکتا ہے؟ ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتائیں۔

شوکت صدیقی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کا حکم کالعدم قرار دے، میرے مؤکل کی تقریر کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کیسے اور کس قانون کے تحت کمیشن بنانے کا حکم دے؟ حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں کمیشن تشکیل دیتی رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے سوال اٹھایا کہ انکوائری میں الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا جج کو ہٹانےکا فیصلہ برقرار رہے گا؟ جن پر الزام لگایا گیا ہم نے ان کو فریق بنانے کا کہا، سچ کی کھوج کون لگائے گا اب؟ ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہاں آئینی اداروں کی تکریم کا سوال ہے، ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ہم کیا حکم نامہ جاری کریں، جس طرح الزامات لگائے گئے کیا یہ ایک جج کے لیے مناسب تھا ہمیں حقائق کو نہیں بھولنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر تقریر کرنے پر جج کو ہٹایا جائے پھر تو آدھی عدلیہ گھر چلی جائے گی، بار کونسلز کی میٹنگز میں کئی ججز تقریریں کرتے ہیں، مسئلہ تقریر کا نہیں تقریر کے متن کا ہے، جج کا کوڈ آف کنڈکٹ جج کو تقریر کرنے سے نہیں روکتا، مسئلہ تب ہوتا ہے جب آپ اپنی تقریر میں کسی پر الزامات لگا دیتے ہیں۔ برطانیہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکا میں سپریم کورٹ ججز بحث مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں، اگر الزامات درست بھی ہیں تو کیا شوکت صدیقی کا بطور جج طریقہ کار مناسب تھا؟ تقریریں بھی دو طرح کی ہوتی ہیں، جج کے تقریر کرنے پر پابندی نہیں، ایسا ہوتا تو بار میں تقاریرپر کئی ججز فارغ ہو جاتے، مسئلہ شوکت صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے سوال کیا کہ کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس آئینی طورپر ریمانڈ ہو سکتا ہے؟اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس واپس نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت صدیقی ریٹائر ہو چکے، بطور جج بحال نہیں ہو سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین تسلیم کر رہے ہیں کہ مکمل انکوائری نہیں ہوئی، جج کے خلاف کارروائی میں پوچھا جاتا ہے اس کا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائےگا۔

اس دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شوکت صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے، جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا، یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا شوکت صدیقی پر فرد جرم عائد ہوئی تھی؟ حامد خان نے کہا کہ شوکاز نوٹس دیا گیا تھا لیکن فرد جرم عائد نہیں ہوئی تھی، کونسل میں سابق چیف جسٹس اسلام آباد انور کاسی کے خلاف بھی کارروائی جاری تھی۔

جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی دو ماہ چلی، جواب بھی جمع کرایا گیا، یہ کہنا درست نہیں کہ شوکت صدیقی کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا، انہوں نے دو جوابات بھی جمع کرائے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں؟ جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں، ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے۔

سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگراں نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے۔

موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سال تک بطور عدالتی نظیر استعمال ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں