وفاقی کابینہ نے عام انتخابات میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی

کابینہ نے پاور ڈویژن کا سالانہ وصولی پلان اور بجلی کمپنیوں میں فوجی افسروں کی تعیناتی کی سفارش مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی کابینہ نے آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت داخلہ کی سمری منظور کر لی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے دی گئی منظوری کے مطابق الیکشن میں دو لاکھ 77 ہزار پاک فوج کے افسران واہلکار تعینات ہوں گے، جبکہ رینجرز اور ایف سی اہل کار بھی فرائض انجام دیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج اور سول آرمڈ فورسز حساس حلقوں میں بطور کوئیک ریسپانس فورس فرائض سرانجام دیں گی۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ نے عام انتخابات میں سکیورٹی کی فراہمی کے لیے پاک فوج کی خدمات کے حوالے سے سمری کابینہ کو بھجوائی تھی۔

یہ بھی واضح رہے کہ ملک بھر میں آٹھ فروری کو عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے جس کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔

پاور ڈویژن کا خطیر رقم کی وصولی کا منصوبہ مسترد

ادھر وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کا سالانہ 600 ارب روپے وصولی کا انوکھا پلان بھی مسترد کر دیا۔ کابینہ ارکان نے پاور ڈویژن کے پلان پر رائے دی کہ پاور ڈویژن کی سفارشات مسائل کے حقیقی حل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

بجلی نادہندگان کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اجرا اور تجدید نہ کرنے کی سفارش اور نادہندگان کو بیرون ملک جانے سے روکنے اور بینک اکاونٹ نہ کھولنے کی سفارشات بھی مسترد کر دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن کا پلان آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ شنید ہے کہ وزیراعظم نے بھی اس پلان پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے پاور ڈویژن کو واضح اہداف کیے ساتھ جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

کابینہ نے پاور کمپنیوں میں مسلح افواج، انٹیلیجنس ایجنسی، ایف آئی اے کے افسران تعینات کرنے کی سفارش بھی مسترد کر دی اور کہا کہ مسلح افواج اور بیوروکریٹس نے پاور سیکٹر سے زیادہ اہمیت کے کام کرنے ہوتے ہیں۔ پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کا قیام قانونی اور سیاسی مشکلات پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر کے بلدیاتی اور کینٹ بورڈز کے ترقیاتی فنڈز منجمند کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ عام انتخابات سے قبل الیکشن مینیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) کے ذریعے نتائج کے لیے ایک اور تجرباتی مشق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں