پاکستانی فوڈز کی بیرون ملک مانگ میں اضافہ، نیشنل فوڈز امارات میں مینوفیکچرنگ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستانی فوڈز کو دنیا کے دوسرےملکوں میں پہلے سے بھی زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ مانگ میں اسی مسلسل اضافے کےپیش نظر شارجہ میں بھی اب'مینو فیکچرنگ ' لئے نیشنل فوڈز' کو لائسنس مل گیا۔

یہ پیش رفت پاکستان کےکھانوں کے لئے امارات میں بھی اضافے کےباعث سامنے آئی ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل فوڈز نامی پاکستانی کمپنی کی سالانہ برآمدات میں اضافے کے پیش نظر ہے۔ جو بڑھ کر 2.2 ارب روے سےبڑھ کر 2.4 ارب روپے ہو گئی ہے۔ کمپنی حکام اور مارکیٹ سے متعکق اہم تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ کمپنی عرب امارات میں بھی اپنی غذائی مصنوعات کا نقش بٹھائےگی۔

نیشنل فوڈز کےبارے میں بتایا گیا ہے'یہ کمپنی بنیادی طور پر فوڈ مینوفیکچرنگ کرتی ہے جسے شارجہ میں بھی اب بھر پور انداز سےکام کا موقع ملے گا۔کیونکہ شارجہ نے اب اس کی درخواست قبول کر کے لائسنس جاری کر دیا ہے۔

نیشنل فوڈز اچار، کیچپ اور میٹھے سمیت کئی کھانوں کی تیاری اور فروخت کرتا ہے اور متحدہ عرب امارات کمپنی کے لیے جغرافیائی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

نیشنل فوڈز کے سی ای او ابرار حسن نے بتایا کہ 2012 میں مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ کے لیے دبئی میں نیشنل فوڈز کا ذیلی ادارہ ڈی ایم سی سی قائم کیا تھا۔ ڈی ایم سی سی کے ذیلی ادارے کی حیثیت سے شارجہ میں ایف زیڈ ای کے نام سے نیشنل فوڈز قائم کیا ہے۔

ابرار حسن نے مزید بتایا کہ کمپنی نے متحدہ عرب امارات میں مینوفیکچرنگ لائسنس کے لیے درخؤاست دی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔ اس مینوفیکچرنگ کا مقصد مارکیٹ تک بہتر رسائی ہے اور یہ بیرون ملک ملنے والی مینوفیکچرنگ کی پہلی سہولت ہوگی۔

کمپنی سربراہ کےمطابق کمپنی کے ک بژنس کا بیس فیصد برآمدت پرمبنی ہے۔ کہ پاکستان سے باہر موجود پاکستانی تارکین وطن اور دوسرے ممالک کی خوش خوراک آبادیاں پاکستانی کھانوں کو بہت پسند کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں