فروری کے عام انتخابات کے لیے ڈیجیٹل تشہیری مہمات کی حکمرانی، پاکستانی نقاش فارغ

انتخابی پینٹنگ اور بینر پرنٹنگ کےڈیجیٹل ہو جانے سے پرانے فنکاروں کے کام اور آمدنی میں خاطر خواہ کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

محمد ارشاد نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ایک گنجان آباد، کم آمدنی والے محلے میں ایک دیوار پر چونے اور پانی کے محلول سے پہلے سفیدی کی اور پھر متحرک رنگوں میں انتخابی تشہیر کی پینٹنگ کا کام شروع کر دیا۔

اگرچہ گذشتہ انتخابات 48 سالہ ارشاد جیسے مصوروں، نقاشوں اور پوسٹر آرٹسٹوں کے لیے ایک منافع بخش موسم تھے لیکن ڈیجیٹل پرنٹنگ کی آمد نے انہیں 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل پولنگ کے کمزور موسم کے درمیان مستقبل کے بارے میں فکر مند کر دیا ہے۔

ان دنوں حالانکہ انتخابات میں تین ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن ارشاد اکثر اوقات کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں نوشاد پینٹر نامی اپنی چھوٹی سی دکان پر گھنٹوں بیکار بیٹھے رہتے ہیں۔

انہوں نے سرخ پینٹ کے ٹب میں اپنے پینٹ برش کو ڈبوتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، “ماضی میں ہمارے پاس بہت کام ہوتا تھا اور ہم اس میدان پر حکمرانی کرتے تھے۔”

"ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا لیکن آج ہمارے پاس اتنا کام نہیں ہے۔ آج کل کام ہو تو کر لیتے ہیں ورنہ فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔”

ارشاد جو گذشتہ 35 سالوں سے دیواروں پر پینٹنگ کر رہے ہیں، کے لیے انتخابات کا مطلب تھا اپنے فن کی طلب میں اضافہ، طویل مہینوں سے دیواروں پر پینٹنگ اور بینرز کے آرڈرز پُر کرنا اور آمدنی میں اضافہ۔

"انہوں نے کہا، "ہم بینر ہاتھ سے لکھتے تھے لیکن اب بینر بنانے میں [ڈیجیٹل] پرنٹنگ آ گئی ہے۔

"پینافلیکس [پوسٹرز] بھی آچکے ہیں اور پرنٹنگ کے کام میں پیشرفت کے ساتھ ہمارے بینرز سے متعلق کام بھی اختتام کو پہنچ گیا ہے۔"

کمائی بھی اب بہت کم ہے۔ ارشاد نے بتایا کہ انہوں نے دیوار کی پینٹنگ سے 150 سے 250 روپے کمائے جو ایک ڈالر سے بھی کم ہے جس میں سے انہیں اپنا سامان بھی خریدنا پڑتا ہے۔

"ارشاد نے کہا، "اس کام کے لیے درکار سامان مہنگا ہو گیا ہے اور ہم اس سے زیادہ بچت نہیں کر پاتے۔

ان کا بڑا بیٹا اکثر کاموں پر اس کے ساتھ جاتا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کام کرنے کے لیے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے۔

ارشاد نے مزید کہا، "میرے بچے اسکول کے بعد دکان پر آتے ہیں اور وہ مجھے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ انہیں اس کام کو سیکھنے یا اس پر توجہ دینے کی طرف مائل ہونا چاہیے۔ مجھے نہیں لگتا "کہ یہ کام مستقبل میں موجود ہوگا۔

لیکن جبکہ ارشاد اپنی خدمات کی طلب میں کمی کا شکار ہیں، ڈیجیٹل ڈیزائنر اور پرنٹر عدنان قیصر جیسے دیگر لوگ ترقی کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں