ایران میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے نو پاکستانی قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں پاک ایران سرحدی علاقے بمپشت سروان میں نامعلوم مسلح افراد نے نو پاکستانی شہریوں کو قتل کر دیا۔ نامعلوم مسلح افراد نے پاک ایران سرحد کے قریب فائرنگ کر کے نو پاکستانیوں کو قتل اور تین کو زخمی کر دیا۔

تمام پاکستانیوں کو بلوچستان کے شمالی علاقوں سے ملحقہ سرحد پار سروان میں قتل کیا گیا اور واقعہ گذشتہ شب ایران کے سرحدی علاقے سیرکان میں پیش آیا۔ واقعے میں جاں بحق دو افراد کی شناخت عثمان اور اشفاق کے نام سے ہوئی ہے جبکہ مارے گئے دیگر سات افرد کی شناخت کے بارے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران میں قتل کیے گئے 5افراد کا تعلق علی پور کے مختلف علاقوں سے ہے اور لواحقین کے مطابق شہید پاکستانی ایران میں مزدوری کا کام کرتے تھے۔

ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سراوان میں نو پاکستانیوں کے ہولناک قتل پر گہراصدمہ ہے، پاکستانی سفارت خانہ سوگوار خاندانوں کی مکمل مدد کرے گا اور پاکستانی قونصلر جائے واقعہ اور زخمیوں سے ملنے ہسپتال گئے تھے۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانیوں کے قتل کے واقعے پر تحقیقات میں تعاون کرے۔ ابھی تک کسی بھی گروپ یا تنظیم نے واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک ہولناک اور قابل نفرت واقعہ ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے واقعے کی فوری تحقیقات اور اس گھنانے جرم میں ملوث افراد کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زاہدان میں ہمارے قونصلر ہسپتال جا رہے ہیں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور طویل مسافت کی وجہ سے انہیں وہاں پہنچنے میں چند گھنٹے لگ جائیں گے، وہ مقامی حکام سے بھی ملاقات کریں گے اور اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی فوری ضرورت پر زور دیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم اس سنگین معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانہ مقتولین کی لاشوں کو جلد از جلد وطن واپس لانے کی پوری کوشش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستان کو دہشت گردی سے لڑنے کے عزم سے نہیں روک سکتے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا ہے کہ جب پاک ایران حالیہ کشیدگی میں کمی اور مفاہمت کے بعد گذشتہ روز ہی پاکستان اور ایران کے سفرا اسلام آباد اور تہران میں اپنے اپنے سفارت خانوں میں پہنچ گئے تھے۔

دونوں ملکوں میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب 17 جنوری کو ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔

ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر پاکستان نے 18 جنوری کی علی الصبح ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے تھے۔

19 جنوری کو پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ان کے ایرانی ہم منصب امیر عبدالہیان کے درمیان ان واقعات کے بعد دوسرا ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ جلیل عباس جیلانی نے ایران کے ساتھ باہمی اعتماد اور تعاون کے جذبے کی بنیاد پر تمام مسائل پر کام کرنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا۔

کشیدگی میں کمی کے بعد گزشتہ روز ہی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا تھا کہ پاکستان اور ایران کے سفرا اسلام آباد اور تہران میں اپنے اپنے سفارت خانوں میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے مطابق پہنچ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں