ایرانی وزیر خارجہ کی ایک روزہ دورے پر اسلام آباد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے جہاں وہ دورے کے دوران پاک ایران کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدہ حالات میں ان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ ایک روزہ دورے پر اتوار کو پاکستان پہنچے اور اپنے دورے کے دوران وہ وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ ساتھ سکیورٹی حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب جلیل عباس جیلانی اور دیگر سے ملاقاتیں کریں گے اور پاک ایران حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران ایران میں نو پاکستانی شہریوں کے قتل سمیت ایران کی دراندازی بھی زیر غور آئے گی۔ دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ ایران میں قتل کیے گئے نو پاکستانی شہریوں کی میتیں آئندہ دو روز تک وطن واپس لائی جائیں گی۔

یاد رہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ کچھ عرصے سے تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

16 جنوری کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں دو بچے جان سے گئے اور تین زخمی ہوئے۔

اس پر پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جبکہ جمعرات 18 جنوری کو پاکستان نے ایران کے اندر واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کیا۔

بعد میں دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان حالات اس وقت بہتر ہوئے جب پاکستانی وزارت خارجہ نے 22 جنوری کو ایک اعلامیے میں بتایا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد اور تہران کے سفیر 26 جنوری سے اپنی پوزیشن پر واپس کام شروع کر سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں