پاکستانی ناشر کی غزہ جنگ کے خلاف فلسطین کے نام خطوط کا مجموعہ جاری

"کوئی ہے - فلسطین کے نام خطوط" میں غزہ جنگ پر مبنی نوٹس، خطوط، شاعری، تراجم اور تشریحات شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستانی صحافی اور ناشر مہر حسین نے پیر کے روز حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ادبی بیاض "کوئی ہے - فلسطین کے نام خطوط" کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد غزہ میں اسرائیل کے مہینوں سے جاری تشدد کے خلاف "بات کرنا" تھا۔

نوٹس، خطوط، اشعار، تراجم اور تشریحات پر مشتمل ایک بیاض اس ماہ شائع کی گئی ہے تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے جنہوں نے غزہ میں کئی مہینوں کی بمباری اور زمینی حملے برداشت کیے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے لے کر اب تک 26,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جس نے اس علاقے میں اسرائیل کی جنگ کا آغاز کیا تھا۔

اس ای بک میں پاکستان، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے مصنفین کی جانب سے گذارشات پیش کی گئی ہیں جبکہ اس میں فلسطین کی طرف سے ایک شاعرانہ کام بھی شامل ہیں جن کا اردو، فارسی اور سرائیکی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ حسین کی سربراہی میں ایک آزاد پبلشنگ ہاؤس زوکا بکس، اور عالمی میڈیا پلیٹ فارم انانکے کے درمیان تعاون سے کیا گیا ہے جس نے ادبی منصوبے کا اپنا الیکٹرانک ورژن شائع کیا۔

زوکا بوکس کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ای بک کے مصنفین میں پاکستانی ادبی برادری کے عالمی سطح پر معزز نام جیسے طحہٰ کیہر، حماد ایچ رند، سفینہ دانش الٰہی اور عائشہ سروری کے ساتھ ساتھ خواہشمند مصنفین اور طلباء شامل ہیں۔

"یہ انتھالوجی فلسطینی عوام تک اپنی بات پہنچانے کے ایک ذریعہ کے طور پر سامنے آئی ہے کہ ہم آپ کے مصائب کے گواہ ہیں، ہم آپ پر ڈھائے جانے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور امید ہے کہ آپ اپنے مصائب کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے دنیا کو اپنی کہانیاں سنانے کے لیے زندہ رہیں گے۔" حسین نے عرب نیوز کو بتایا۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل کا "متأثر کن ترین" پہلو یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح کتاب کے مصنفین اور عام طور پر لوگ جنگ میں شامل ہوئے۔

حسین نے نوٹ کیا، "یہ ایک مشترکہ فہم کا احساس ہے کہ نفرت کہیں نہیں لے جاتی اور آگے بڑھنے کا راستہ ہمدردی ہے۔ مجھے اب بھی مزید گذارشات موصول ہو رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ دوسرے کے لیے غصے یا ناپنسدیدگی کے احساس کے بغیر انسانی اور شہری انداز میں اپنی حمایت ظاہر کرنے کے لیے فلسطینیوں سے مربوط ہونے کے خواہشمند ہیں۔"

اس ماہ پراجیکٹ کے ڈیجیٹل لانچ کے موقع پر بات کرتے ہوئے انانکے کی بانی اور ایگزیکٹو ایڈیٹر سبین مظفر نے ای بک کو ایک ایسی دوا کے طور پر بیان کیا جو پوری دنیا کے زخم مندمل کر سکتی ہے۔

مظفر نے کہا، "شاید کوئی ہے جیسی کوششیں ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہیں کیونکہ یہ گفتگو اور مکالمے کے ذریعے ہے جس سے ہم بات چیت کا دوبارہ تصور کر سکتے ہیں۔"

"یہ تعاون مجھے امید دیتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں