پاکستان اور ایران کا معاشی سرگرمیاں بڑھانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان اور ایران نے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے اور دہشت گردی سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللّہیان کے ہمراہ پیر کے روز مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران باہمی مفاد کے مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔

پاکستان کے نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے اہم ہیں، ایران سے تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینےکے خواہاں ہیں، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ضرورت ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک سیاسی اور سکیورٹی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں، دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے ایک خطرہ ہے۔پاکستان اور ایران نے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے اور دہشت گردی سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دونوں ملکوں نے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔’مند پشین بارڈر پر مارکیٹ کھولی جا رہی ہے اور پانچ دیگر مشترکہ سرحدی مارکیٹوں کے قیام کے لیے تیزی سے کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان کو بھی جلد از جلد آپریشنل کیا جائے گا۔‘

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان میں مقیم افراد کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں۔

ایران، پاکستان کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کی سرحدی اور علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جغرافیائی تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان کی سکیورٹی ہمارے لیے مقدم ہے۔

مہمان وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ’ایران اور پاکستان دہشت گردوں کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری سکیورٹی کو خطرے سے دوچار کریں۔‘

حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایرانی صدر کے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

قبل ازیں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے وزارتِ خارجہ میں ملاقات کی اور پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کے لیے مضبوط مکالمے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ’بات چیت میں سیاسی و سکیورٹی کے مسائل پر قریبی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔‘

دونوں فریقین نے باہمی احترام اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی نقطہ نظر کی بنیاد پر امن اور خوشحالی کے باہمی مطلوبہ اہداف کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان گذشتہ روز ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ ایک ایسے موقع پر پاکستان کے دورے پر آئے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات گذشتہ کچھ عرصے سے کافی کشیدہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں