بھارتی درآمدات پر پابندی، ریکارڈ قیمتوں پر پاکستانی چاول کی مانگ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی چاول کی برآمدات جون میں ختم ہونے والے سال میں ریکارڈ بلندی پر پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ حریف بھارت کی جانب سے اپنی ترسیل کو روکنے کے فیصلے نے خریداروں کو اسلام آباد سے زیادہ خریداری کرنے پر مجبور کیا ہے جو تقریباً 16 سال کی بلند ترین قیمتوں پر اناج کی پیشکش کر رہا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ بھارت کی طرف سے گذشتہ سال عائد پابندیوں کے بعد ریکارڈ برآمدات سخت سپلائی کو کم کرنے میں مدد کر رہی ہیں اور اس سے پاکستان کے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملے گی جو درآمدات کی مالی اعانت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (آر ای اے پی) کے چیئرمین چیلا رام کیولانی نے رائٹرز کو بتایا، "ہم نے گذشتہ چند مہینوں میں چاول کی ٹھوس طلب دیکھی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے برآمد روک دی ہے۔"

ہندوستان جو عموماً عالمی سطح پر تجارت کردہ چاول کا تقریباً 40 فیصد بھیجتا ہے، نے گذشتہ سال ایک حیرت انگیز اقدام میں غیر باسمتی سفید چاول کی برآمدات پر پابندی لگا دی تھی اور جزوی طور پر پکے ہوئے چاولوں پر برآمدی ڈیوٹی بھی عائد کر دی تھی۔

کیولانی نے کہا کہ مالی سال 2023/24 میں پاکستان کی برآمدات 5 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہیں جو گذشتہ سال کے 3.7 ملین ٹن سے زیادہ ہے۔

صنعت کے کچھ حکام اور بھی زیادہ پر امید ہیں جن کا خیال ہے کہ اس سال پیداوار میں خاطر خواہ بہتری کے پیشِ نظر برآمدات 5.2 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہیں۔

ایک عالمی تجارتی ادارے کے ساتھ نئی دہلی میں مقیم ایک ڈیلر نے کہا، پاکستان 2023/24 میں 9 سے 9.5 ملین ٹن چاول پیدا کر سکتا ہے جبکہ ایک سال پہلے سیلاب کی وجہ سے پیداوار 5.5 ملین ٹن رہ گئی تھی۔

ڈیلر نے کہا، "زیادہ پیداوار اور بلند عالمی قیمتیں پاکستان کو تیز رفتاری سے برآمدات کی اجازت دے رہی ہیں۔ صرف دسمبر میں پاکستان نے تقریباً 700,000 ٹن چاول برآمد کیے۔"

انہوں نے کہا، باسمتی چاول کی برآمدات اس سال 60 فیصد بڑھ کر 950,000 ٹن تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ غیر باسمتی کی برآمدات 36 فیصد اضافے سے 4.25 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہیں۔

کراچی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے اسسٹنٹ پروفیسر عادل ناخدا نے کہا، مالیت کے لحاظ سے پاکستان کی چاول کی برآمدات اس سال 3 بلین ڈالر سے زیادہ حاصل کر سکتی ہیں جو گذشتہ سال کے 2.1 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

روایتی طور پر بھارت غیر باسمتی چاول پاکستان کے مقابلے میں کم قیمت پر پیش کرتا تھا۔

لاہور میں واقع لطیف رائس ملز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ حماد عتیق نے کہا، البتہ بھارت کے بازار سے باہر ہونے کے بعد خریدار پاکستان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور زیادہ پیداوار کے باوجود مقامی قیمتیں بتدریج بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان 5 فیصد ٹوٹا سفید چاول تقریباً 640 ڈالر فی ٹن اور جزوی طور پر پکے ہوئے چاول تقریباً 680 ڈالر فی ٹن کے حساب سے پیش کر رہا ہے جو ایک سال پہلے بالترتیب 465 ڈالر اور 486 ڈالر تھا۔

ڈیلرز نے بتایا، پاکستان اس وقت غیر باسمتی چاول بنیادی طور پر انڈونیشیا، سینیگال، مالی، آئیوری کوسٹ اور کینیا کو اور اعلیٰ ترین باسمتی چاول یورپی یونین، قطر اور سعودی عرب کو برآمد کرتا ہے۔

بھارت کی غیر موجودگی میں ویتنام، تھائی لینڈ اور پاکستان اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممبئی میں مقیم ایک ڈیلر نے کہا، البتہ شرقِ اوسط، یورپ اور افریقہ کے ممالک کو خریدنے کے لیے پاکستان کی نسبتاً زیادہ جغرافیائی قربت اسے مال برداری کا فائدہ فراہم کر رہی ہے۔

ڈیلر نے کہا، "ممکن ہے کہ مئی میں ہونے والے انتخابات کے بعد ہندوستان برآمدی پابندیوں پر نظرثانی کرے۔ پاکستانی برآمد کنندگان نے پہلے ہی پورے سال کی ترسیل کا تقریباً دو تہائی حصہ بھیج دیا ہے اور توقع ہے کہ وہ مئی کے آخر سے پہلے پوری مقدار فروخت کر دیں گے۔"

کیولانی نے کہا کہ پاکستانی کسانوں کو اپنے دھان کی ریکارڈ قیمتیں مل رہی ہیں جس سے امکان ہے کہ اگلے سیزن میں پودے لگانے کے رقبے کو بڑھانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

انہوں نے کہا، "اگر موسم نے ساتھ دیا تو اگلے سیزن میں بھی پاکستان کے پاس برآمدات کے لیے بڑی فاضل مقدار ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں