توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید کی سزا

عمران خان اور ان کی اہلیہ پر 78 کروڑ 70 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان کو 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14،14 سال قید با مشقت کی سزا سنادی گئی۔ مقدمے کی سماعت منگل کو جج محمد بشیر کی احتساب عدالت میں ہوئی۔

احتساب عدالت نے دونوں ملزمان پر 78 کروڑ 70 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ہے۔

عمران خان کو سزائیں ایسے موقع پر سنائی گئی ہیں جب عام انتخابات میں آٹھ روز باقی رہ گئے ہیں اور ان کی جماعت کے امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

بدھ کو سماعت کے موقع پر سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی عدالت میں پیش نہ ہوئیں جب کہ جج محمد بشیر کے رو برو عمران خان نے اپنی حاضری لگائی۔

عدالت نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کا دفعہ 342 کا بیان کہاں ہے جس پر سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کے لیے بلایا گیا تھا۔

جس پر جج محمد بشیر نے عمران خان کو کہا کہ آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرا دیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں۔

عمران خان نے فاضل جج سے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنا دی گئی۔

سابق وزیرِِ اعظم نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو انہیں 342 کا بیان دکھا کر جمع کرا دیں گے۔

عمران خان یہ کہہ کر کمرۂ عدالت سے واپس چلے گئے کہ وہ صرف حاضری لگانے کے لیے آئے تھے۔ جس کے بعد جج بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت کی جانب سے سزا کے فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر بشری بی بی عدالت میں موجود نہیں تھیں۔

بعد ازاں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ گرفتاری دینے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچیں۔ پولیس نے اڈیالہ جیل سے ان کو گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز عمران خان کو سائفر کیس میں 10 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں کرپشن کا مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی تھی، فیصلہ آنے کے فوراً بعد انہیں پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔

بعد ازاں 29 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل میں قید عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

تاہم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیر اعظم کو جیل میں ہی قید رکھنے کا حکم دے دیا تھا۔

چھ دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

توشہ خانہ کیس ہے کیا؟

گذشتہ سال اگست میں الیکشن کمیشن میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ایم این ایز کی درخواست پر سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کی نااہلی کے لیے ایک ریفرنس بھیجا تھا۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان نے اپنے اثاثوں میں توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف اور ان تحائف کی فروخت سے حاصل کی گئی رقم کی تفصیل نہیں بتائی۔‘

الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے 21 اکتوبر 2022 کو عمران خان کے خلاف توشہ خانہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے جان بوجھ کر الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو جھوٹا بیان جمع کرانے پر آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے غیر واضح بیان جمع کروایا، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن137 (اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کروانا)، سیکشن167 (کرپٹ پریکٹس) اور سیکشن 173 (جھوٹا بیان اور ڈیکلیریشن جمع کروانا) کی خلاف ورزی کی ہے، اور یوں وہ الیکشن ایکٹ کی متعلقہ سیکشنز کے تحت کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل تحائف اثاثوں میں ڈیکلیئر نہ کر کے دانستہ طور پر حقائق چھپائے۔

مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کی طرف سے جمع کروائے گئے اور سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس میں اثاثے چھپانے پر عمران خان کی نااہلی کی استدعا کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلے میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں