انتخابی منشور میں پاکستانی مذہبی جماعتوں کا خواتین کو بااختیار بنانے،حقِ وراثت پر زور

جے یو آئی اور ٹی ایل پی کی مذہبی ووٹ بینک پر نظر، جماعت اسلامی کا ’حل پر مبنی‘ منشور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پاکستان کی تین بڑی مذہبی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور میں خواتین کو بااختیار اور ان کے حقِ وراثت کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس حوالے سے تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ ان میں سے کم از کم ایک نے پاکستان میں خواتین کے مسائل کے حل کی پیشکش کی ہے۔

جبکہ 8 فروری کا دن آنے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے جب لاکھوں پاکستانی آئندہ پانچ سال کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے کی غرض سے ووٹ کا استعمال کریں گے تو تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور کی نقاب کشائی کی ہے اور مختلف اقدامات کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا عہد کیا ہے۔

تینوں مذہبی جماعتوں بشمول جمعیتِ علمائے اسلام (جے یو آئی)، تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور جماعتِ اسلامی (جے آئی) نے اپنے انتخابی منشور میں دیگر چیزوں کے علاوہ حقوقِ نسواں کے تحفظ اور ان کے لیے روزگار کے مساوی مواقع کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

2018کے عام انتخابات میں جے یو آئی نے نو اور اس کے بعد جے آئی نے تین نشستیں حاصل کیں اور ٹی ایل پی اگرچہ کوئی پارلیمانی نشست تو نہ جیت سکی لیکن اس نے ملک بھر سے 2.2 ملین ووٹ حاصل کیے۔ مجموعی طور پر تینوں جماعتوں کو4.7 ملین ووٹ ملے۔

ماضی میں جے یو آئی اور جے آئی جو متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے اتحاد سے وابستہ تھیں، نے 2002 کے انتخابات کے بعد مرکز اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں بنائیں جبکہ اس اتحاد نے صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں حکومت حاصل کی۔جے آئی 2013 سے 2018 تک کے پی میں پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت حکومت کا حصہ رہی ہے جبکہ جے یو آئی ماضی میں دیگر حکمران اتحادوں میں بھی شامل ہو چکی ہے۔

لیکن محدود کامیابیوں کے باوجود یہ جماعتیں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے میں کامیاب رہی ہیں اور پاکستان کی سیاست میں اپنی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ جے یو آئی نے اپریل 2022 میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لانے اور اس کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ الائنس کی جانب سے مخلوط حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اپنے انتخابی منشور میں جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو خواتین کو جائیداد اور دولت میں حصہ دینے سے انکار کرنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جماعت اسلامی کے منشور میں کہا گیا ہے، "خواتین کو ان کے والد یا شوہر کی جائیداد میں سے شریعت کے مطابق حصہ دینے کے لیے فوری اقدامات جائیں گے۔"

پاکستان کے بہت سے حصوں میں خواتین کو اکثر جائیداد اور دولت میں حصہ دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے باوجود یہ کہ پاکستان کا آئین اور شریعت یعنی اسلامی قانون ان کی ضمانت دیتا ہے۔

پاکستانی حکومت نے خواتین کو جائیداد میں حصہ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کے مختلف اقدامات پر غور کیا ہے تاکہ انہیں اس کے لیے عدالتوں میں لڑنا نہ پڑے۔

2021 میں حکومت نے انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس (خواتین کے حقوقِ وراثت کے نفاذ کا) ایکٹ متعارف کرایا جس کا مقصد ریاست کی طرف سے خواتین کے حقوقِ وراثت کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ تمام پاکستانی صوبوں کی طرف سے اختیار کردہ قانون خواتین کو ایک محتسب کے پاس شکایات درج کرانے کی اجازت دیتا ہے تاکہ ان کے حقوقِ جائیداد کے مسائل کو تیزی سے حل کیا جا سکے۔

تاہم کئی خواتین ابھی تک قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ان حقوق کا استعمال نہیں کر پائیں۔

جماعتِ اسلامی نے اپنے منشور میں جہیز، "غیرت" کے نام پر خواتین کے قتل کی روایت کو ختم کرنے اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔

اس میں کہا گیا ہے، "ملازمت پیشہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ بیوہ اور مطلقہ خاتون کو سرکاری ملازمتوں کے لیے عمر میں رعایت دی جائے گی۔"

"چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے قوانین بنائے جائیں گے۔ خواتین کو ہنر مند بنا کر مالی طور پر مضبوط ہونے میں مدد کی جائے گی۔"

جے یو آئی نے اپنے انتخابی منشور میں کہا وہ خواتین کے تحفظ کے لیے "عملی اقدامات" اور انہیں تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرے گی۔

ٹی ایل پی کے منشور میں کہا گیا ہے کہ پارٹی حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے ایک "خصوصی ادارہ" قائم کر کے انہیں "قانونی اور شرعی حقوق" فراہم کرے گی۔

جبکہ ان جماعتوں نے مختلف مسائل پر بات کی تو تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ جے آئی نے "حل پر مبنی" منشور پیش کیا ہے جبکہ جے یو آئی اور ٹی ایل پی اپنے مذہبی ووٹ پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

لاہور میں مقیم ٹیلی ویژن کے میزبان اور تجزیہ کار اجمل جامی نے کہا، "دو دیگر مذہبی جماعتوں (جے یو آئی اور ٹی ایل پی) کے منشور کا مقصد بنیادی طور پر مذہبی ووٹ بینک کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔"

انہوں نے کہا، ٹی ایل پی کا منشور سیدھا ہے جو بنیادی طور پر ایک واحد موضوع پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

جامی نے عرب نیوز کو بتایا، "وہ ریاست سے اس بنیادی عزم کے علاوہ کسی اقدامات کے لیے نہیں کہہ رہے جو آخری نبی [محمدؐ] اور ان کے عقیدے کی اہمیت کے بارے میں ہے۔"

2015 میں قیام کے بعد سے ٹی ایل پی نے بڑے پیمانے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت کے حق میں مہم چلائی ہے جو اس کے نظریے کی بنیاد ہے۔

جامی نے کہا، "اس بنیادی نکتے کے علاوہ ان کے منشور میں کوئی بھی ٹھوس بات نہیں ہے۔ وہ مفت بجلی کی اہمیت پر بھی توجہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ایسا کیسے کریں گے۔"

تجزیہ کار نے جے یو آئی کے منشور کو "فکر انگیز" قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "جے یو آئی کا منشور فکر انگیز ہے، یہ بہت سخت منشور ہے۔ اور شاید اس طرح سے جے یو آئی کی مذہبی سیاست پر تبادلۂ خیال کیا جا سکتا ہے،" اور مزید کہا مولانا فضل الرحمان کی قیادت والی جماعت کا خیال ہے کہ "ان کے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے علاوہ کسی اور کو" اہم عہدوں پر نہیں ہونا چاہیے مثلاً وزیراعظم یا صدر؟

انہوں نے کہا، "انہوں نے واضح طور پر اپنے منشور میں اسی نکتے کے بارے میں لکھا ہے۔ "اور یہ اقلیتوں کے لیے پاکستانیوں کے برابر ہونے کے حوالے سے ایک مسئلہ یا تکلیف دہ معاملہ ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے۔"

جے یو آئی کے ترجمان محمد سمیع نے کہا، ان کی جماعت اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی مکمل حمایت کرتی ہے اور منشور میں بھی اس پر زور دیا گیا ہے۔

سمیع نے کہا، "ہمارا منشور عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل طور پر الگ کرنے کی بھی وکالت کرتا ہے اور شرعی اصولوں کے مطابق قانون میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔"

"اس کے علاوہ یہ پریس کی آزادی، صوبائی خودمختاری، ضروری اشیائے خوردونوش کے لیے ٹیکس میں رعایت، یومیہ اجرت کو ایک تولہ (12 گرام) سونے کی قیمت کے برابر کرنے، مفت تعلیم اور مفت صحت کی نگہداشت کی وکالت کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، ان کا مقصد معیشت پر "چند افراد" کا کنٹرول ختم کرنا، غیر قانونی طریقوں سے حاصل کردہ دولت کی ضبطی اور ایک اسلامی معاشی نظام متعارف کرانا تھا۔

کراچی میں مقیم مذہبی گروہوں پر توجہ مرکوز کرنے والے ایک تجزیہ کار وکیل الرحمٰن نے جامی سے اتفاق کیا اور کہا کہ جے یو آئی اور ٹی ایل پی کے ووٹرز نے اس بات کی مکمل تائید کی کہ یہ جماعتیں اپنے منشور میں انہیں کیا بیچ رہی ہیں۔

وکیل الرحمٰن نے کہا، "ٹی ایل پی 2018 میں ووٹ لینے والی پانچویں بڑی جماعت تھی... اسے یہ ووٹ [بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے والے] کارٹونز اور دیگر توہین آمیز مواد پر اپنے سخت گیر موقف کی وجہ سے ملے۔ اسی طرح جے یو آئی کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان اور نعرے اس کے ہدفی ووٹرز خریدتے ہیں۔"

تاہم انہوں نے خواتین کے مسائل حل کرنے والی بات پر دونوں جماعتوں کی تعریف کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں