دوران عدت نکاح کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات، سات سال قید

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کے کیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496 کے تحت سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدت کے دوران نکاح کے کیس میں سات، سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ہفتہ کو دوران عدت نکاح کے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا ہے۔

عدالت میں سنائے جانے والے محفوظ فیصلے کے مطابق دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496 کے تحت سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدت میں نکاح کیس میں ایک شکایت کنندہ اور تین گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور ان پر جرح کی گئی۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد دو روز میں طویل سماعتوں میں بیانات اور جرح کا عمل مکمل کیا گیا۔

عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مزید کہا کہ ’39 روز میں عدت پوری ہونے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ججمنٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ سپریم کورٹ فیصلے کا اطلاق اس کیس میں نہیں ہوتا۔‘

بیرسٹر گوہر نے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’جج نے زبانی فیصلہ سنایا ہے ابھی تحریری فیصلہ موجود نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

اس سے قبل جمعے کی شب اڈیالہ جیل میں 13 گھنٹے سے زائد تک جاری رہنے والی سماعت کے اختتام کے بعد سول جج قدرت اللہ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی نے کمرہ عدالت میں دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کروایا۔ انہیں 13 صفحات پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور گواہان کے بیانات پر جرح کی۔

بشریٰ بی بی نے اپنے بیان میں 14 نومبر 2017 کا طلاق نامہ ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ’(سابق شوہر) خاور مانیکا نے مجھے زبانی طلاق ثلاثہ سال 2017 کے اپریل کے مہینے میں دی۔ اپریل سے اگست 2017 تک میں نے اپنی عدت کا دورانیہ گزارا۔‘

انہوں نے کہا: ’میں اگست 2017 میں لاہور میں اپنی والدہ کے گھر منتقل ہوئی اور یکم جنوری 2018 کو عمران خان سے ایک ہی نکاح ہوا۔‘

عدت میں نکاح کیس میں ایک شکایت کنندہ اور تین گواہان کے بیانات ہوئے اور ان پر جرح کی گئی۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد دو روز میں طویل سماعتوں میں بیانات اور جرح کا عمل مکمل کیا گیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی پر رواں برس 16 جنوری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اڈیالہ جیل میں سینیئر سول جج قدرت اللہ نے اس کیس کی سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ’ناجائز تعلقات‘ کے الزامات کا کیس ختم کرتے ہوئے صرف عدت میں نکاح کی حد تک فردِ جرم عائد کی تھی۔

بعد ازاں ملزمان نے یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت کے دوران نکاح کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے سے روکتے ہوئے بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو 25 جنوری کے لیے نوٹس جاری کر دیا تھا۔

تاہم 31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دورانِ عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں نمٹا دیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ’فردِ جرم عائد ہو چکی ہے، ہائی کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔‘

اس کیس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا شکایت کنندہ ہیں جبکہ عون چوہدری اور مفتی سعید اس کیس میں گواہ ہیں۔

مقدمے کا پسِ منظر، کب کیا ہوا

25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔

خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔

28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔

11 دسمبر کو عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا۔

2 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کی۔

10 جنوری اور پھر 11 جنوری کو بھی فردِ جرم عائد نہ ہوسکی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔

15 جنوری کو بشریٰ بی بی اور 18 جنوری کو عمران خان نے غیرشرعی نکاح کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تاہم 16 جنوری کو غیر شرعی نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کردی گئی تھی۔

31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

گذشتہ روز دو فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا۔

’’فیصلے کا مقصد مجھے اور بشریٰ بی بی کو ذلیل و رسوا کرنا ہے‘‘

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ تاریخ میں پہلی بار عدت میں نکاح کا کیس بنایا گیا اور اس کا مقصد مجھے اور بشریٰ بی بی کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے توشہ خانہ ریفرنس میں پہلی بار کسی کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں پہلی بار کسی ٹرسٹ کی ٹرسٹی پر کیس بنایا گیا ہے، بشریٰ بی بی القادر ٹرسٹ کی ٹرسٹی ہیں جنہوں نے ایک روپے کا مالی فائدہ حاصل نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس میں مجھے حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کو ایکسپوز کرنے کی سزا دی گئی ہے اور 9 مئی کو جس پر ظلم ہوا اسی پر مقدمات بنا دیے گئے، یہ بھی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ کسی شخص پر 200 سے زائد مقدمات بنا دیے گئے، یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے اور ایک مفرور ملزم کے ریکارڈ رفتار کے ساتھ مقدمات معاف کیے گئے، یہ بھی پہلی بار ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو انہوں نے پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈر شپ ہی اڑا دی، اب جو امیدوار ہیں انہیں انتخابی مہم بھی نہیں چلانے دی جارہی۔

ادھر بشریٰ بی بی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدت کا معاملہ قرآن مجید میں ہے اور سب واضح ہے، یہ غیرت اور بے غیرتی کی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے، باہر سے غلام آگیا ہے اور اب وہ ان کی نوکری کرے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب عام انتخابات میں محض چار روز باقی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں