موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش پر سیاسی جماعتیں برہم

موبائل نیٹ ورک کی بندش انتخابات کے دن دھاندلی کے آغاز کی نشان دہی کرتی ہے: سیاسی رہنماؤں کے خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں جمعرات کی صبح آٹھ بجے عام انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہونے سے قبل ہی موبائل فون سروس بند کر دی گئی۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس اقدام کو دھاندلی کا آغاز قرار دے رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے ملک بھر میں موبائل فون سروسز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ بلاول کے مطابق انہوں نے اپنی پارٹی سے کہہ دیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے رجوع کریں۔

ادھر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ موبائل فون سروس بند کرکے دہشت گردی کے خلاف کون سی کارروائی کی گئی؟۔

اپنے حلقہ انتخاب این اے 246، 250 نارتھ ناظم آباد کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موبائل فون سروسز بند کردی گئی ہے بد ترین صورتحال ہے، وزیر داخلہ نے فون سروس بند کرکے کون سی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما تیمور خان جھگڑا نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ پولنگ شروع ہوتے ہی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کرنا ایک شرمناک عمل ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر اور انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے والے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ موبائل نیٹ ورک کی بندش انتخابات کے دن دھاندلی کے آغاز کی نشان دہی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امیدواروں کا ان کے پولنگ ایجنٹس اور عملے سے رابطہ منقطع ہونا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال کو قائم رکھنے کے لیے ملک بھر میں موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے وزارتِ داخلہ کو موبائل فون یا انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے احکامات جاری نہیں کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں