پاکستان کو انتخابات کے بعد ’انتشار اور زہرناکی‘ سے نکلنا چاہیے: آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جبکہ عام انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آ رہے ہیں تو ملک کے آرمی چیف نے ہفتے کے روز کہا، "پاکستان کو "انتشار اور زہرناکی" کی سیاست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔"

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر فوج کا وسیع غلبہ اور اثر رہا ہے اور 1947 میں ہندوستان سے علیحدگی کے بعد سے ملک کی تقریباً نصف تاریخ تک جرنیلوں نے اسے چلایا ہے۔

فوج کے ایک بیان کے مطابق جنرل سید عاصم منیر نے کہا، "انتشار اور زہرناکی کی سیاست جو 250 ملین لوگوں کے ترقی پسند ملک کے لیے موزوں نہیں ہے، قوم کو اس سے آگے بڑھنے کے لیے مستحکم ہاتھوں اور ایک شفا بخش لمس کی ضرورت ہے۔"

سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا عروج و زوال فوج کی حمایت سے ہوتا ہے جس کے بارے میں اس سال بڑے پیمانے پر خیال تھا کہ وہ تین بار کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی پارٹی کی حمایت کر رہی تھی۔

پاکستان کو سیاسی سودے بازی کے دنوں کا سامنا ہے جب ہفتے کو جاری ہونے والے چند حتمی انتخابی نتائج میں سزایافتہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وفادار آزاد امیدواروں کی مضبوط کارکردگی کے علاوہ کوئی واضح اکثریت نظر نہیں آئی۔

لیکن نتائج میں طویل تاخیر جو فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ووٹوں کی دھاندلی میں ملوث ہونے کے مزید الزامات کی وجہ بنی، کے بعد فوج کی حمایت یافتہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) نے سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پارٹی کے طور پر فتح کا اعلان کیا۔

فوجی بیان میں منیر نے کہا، "انتخابات جیتنے اور ہارنے کا صفر حاصل جمع کا مقابلہ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کا تعین کرنے کی ایک مشق ہے۔"

"سیاسی قیادت اور ان کے کارکنوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حکومت اور عوام کی خدمت کرنے کی کوششوں کو ہم آہنگ کرنا چاہیے جو شاید جمہوریت کو فعال اور بامقصد بنانے کا واحد راستہ ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں