امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کراچی سے سندھ اسمبلی کی جیتی ہوئی نشست واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کے روز کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا ’اس حلقے سے مجھ سے زیادہ ووٹ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار نے لیے، مجھے خیرات میں یہ سیٹ دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’ہم جہاں سے جیتے ہیں وہاں سے ہرا دیا گیا، فارم 25 کے مطابق مجھے صوبائی نشست پہ 26 ہزار ووٹ ملے۔ احتجاج کے بعد 30 ہزار کر دیے گئے۔ مگر ظرف رکھتا ہوں۔ یہ نشست نہیں لوں گا۔ ہمیں اپنا جائز حق چاہیے۔ جو نہیں ملا‘۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بلدیاتی الیکشن سے زیادہ ووٹ ملے، جماعت اسلامی کو آج بھی کراچی کے لوگ نجات دہندہ سمجھتے ہیں مگر پی ٹی آئی کو بھی زیادہ لوگوں نے ووٹ دیے اور ہم اس کو قبول کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں خیرات میں سیٹ نہیں چاہیے۔ مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی کے تمام نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وہ ہم سے جیتے ہیں اور حقیقت میں جیتے ہیں تو ہمارا دل اتنا وسیع ہے کہ ہم اس کو مانتے ہیں، تسلیم کرتے ہیں۔‘

امیر جماعت اسلامی کراچی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے ان تمام نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کے نتائج فارم 45 کے مطابق ہونے چاہئیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جائے جو انتخابی نتائج کا فرانزک آڈٹ کرے۔

واضح رہے کہ یہ پہلی مثال ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے کامیاب قرار دیے جانے والے ایک رکن اسمبلی نے ایک دوسرے امیدوار کے حق میں اپنی سیٹ چھوڑ دی کہ انہوں نے ان کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

’’میدان سے بھاگنا جماعت اسلامی کی روایت‘‘

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ایس 129 سے اُن کے امیدوار معاذ مقدم نے حافظ نعیم الرحمان کی کامیابی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ترجمان متحدہ قومی موومنٹ (ایک کیو ایم) پاکستان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے میدان سے بھاگ کر اپنی جماعت کی روایت کوبرقرار رکھا ہے۔

ایم کیو ایم ترجمان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی کراچی نے دھاندلی زدہ جیت کا بھانڈا پھوٹنے سے روکنے کے لیے نشست چھوڑی ہے۔

آٹھ فروری کو ہونے والے الیکشن کے نتائج کے مطابق سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں میں سے 84 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں