کسی ملک کے کہنے پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہیں کریں گے:انوار الحق کاکڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے ہیں اور انتخابی عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی گئی۔

پیر کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں ہوتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے چیلنجز درپیش ہیں، موبائل فون سروس عوام کے تحفظ کیلئے بند کی گئی۔

نگران وزیر اعظم نے کہا کہ "انتخابات کے انعقاد میں سکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا، دہشت گردی کے خطرات کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا۔ انتخابات کے دوران بین الاقوامی مبصرین موجود رہے۔"

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد 36 گھنٹے میں مرتب ہوئے جبکہ 2018ء میں یہ عمل 66 گھنٹے میں مکمل کیا گیا تھا۔ 92 ہزار پولنگ سٹیشنز کو محفوظ بنانے کیلئے جامع انتظامات کئے گئے تھے، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر انتخابی نتائج کے حوالے سے بڑھا چڑھا کر تجزیے پیش کئے گئے، الیکشن کمیشن کی جو ذمہ داری تھی وہ اس نے پوری کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین ہمارے دوست ممالک ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کا ابتدائی تجزیہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر دی جانے والی معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔ ذمہ دار حکومتیں انتظار کے بعد اپنا مؤقف اختیار کریں تو یہ بہتر ہوتا ہے، اگر ہمیں تحقیقات کرانا ہوں گی تو ہم ایسا امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے مطالبہ پر نہیں کریں گے بلکہ اپنے طریقہ کار کے مطابق کریں گے کیونکہ ہم ایک خود مختار ملک ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں