پاکستان میں سیاسی بے یقینی؛ کاروباری برادری تشویش میں مبتلا ہونے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ملک بھر میں آٹھ فروری کو عام انتخابات کے انعقاد کے بعد سیاسی صورتحال واضح نہ ہونے کے سبب تاجر برادری تشویش میں مبتلا ہے، بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مزید سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی کا سامنا نہیں کرسکیں گے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہورہی ہے جب یہ واضح ہے کہ آنے والی حکومت کو کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے زیرِ اثر استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں کچھ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

سربراہ پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) احسان ملک نے معاصر عزیز ڈان کو بتایا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اقتدار کے لیے لڑنے والی جماعتوں میں سے کسی کو بھی اس دباؤ کا اندازہ ہے جس کا سامنا اُن اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں کرنا پڑے گا جو کم از کم ایک دہائی قبل نافذ کردینی چاہئیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ 24واں آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے اور اس پروگرام کے تحت اب ان اصلاحات پر بحث و مباحثے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

احسان ملک نے کہا کہ آنے والی حکومت کو فوری طور پر ایک طویل، وسیع اور اصلاحات پر مرکوز آئی ایم ایف پروگرام پر بات چیت کرنی ہو گی، کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں اس کو شامل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مقامی طور پر پیش کیے گئے ایک ناقابل عمل حل کی بات کی جبکہ اسحٰق ڈار اور آئی ایم ایف کے درمیان کشیدہ تعلقات اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں، جس کی وجہ شرح مبادلہ کو قابو میں لانے کے لیے ان کی غلط حکمت عملی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہا ان غلطیوں کو دہرانا پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہوگا، تو آنے والی حکومت ملک کی خودمختاری کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے میں تاخیر سے کیسے گریز کرے گی؟ وہ عوام کو اس پر کیسے مطمئن کریں گے؟ مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور عوام جلد حل کی توقع کریں گے، جوکہ ایک مشکل کام ہوگا۔

احسان ملک نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سخت مالیاتی نظم و ضبط کا مطالبہ کیا جائے گا لیکن اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو مہنگائی کو کنٹرول کرنا، قرض لینے میں کمی اور فنڈز کی لاگت کو کم کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں نجکاری کو شامل نہیں کیا ہے، جبکہ ٹیکس بیس کو بڑھانے کا معاملہ (جس سے کئی پارٹیوں کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچتا ہے) ملک میں پہلے سے ہی غیرمتناسب طور پر ٹیکس کیٹگری میں شمار طبقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

’پاکستان مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا‘

احسان ملک نے سوال کیا کہ کیا سیاسی اعتبار سے حکومت کے پاس سخت اقدامات اٹھانے کی ہمت ہوگی؟ کیا اپوزیشن تعاون کرے گی؟ دونوں کے لیے ایسی کوئی راہ نظر نہیں آرہی ہے، لہذا کاروباری طبقے کو اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سامنے آنے والی سیاسی محاذ آرائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق صدر زبیر طفیل نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا، سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کے لیے کھینچا تانی ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

زبیر طفیل (جو یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر بھی ہیں) نے کہا کہ سیاسی لڑائی کے بجائے وسیع البنیاد قومی حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو ایک پائیدار، طویل مدتی اور وسیع البنیاد قومی حکومت کی ضرورت ہے، تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور جیتنے والے آزاد امیدواروں کو ملک کو درپیش سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، بےیقینی کے باعث سرمایہ کار اپنا سرمایہ دبئی اور دیگر ممالک منتقل کر رہے ہیں۔

آٹو پارٹس بنانے اور برآمد کرنے والے بزنس مین مشہود علی خان نے ڈان کے عامر شفاعت خان کق بتایا کہ انتخابی نتائج کسی ایک پارٹی کو مستحکم حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد فراہم نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ مخمصہ یہ ہے کہ تینوں بڑی پارٹیاں اس بات پر الجھ رہی ہیں کہ حکومت سازی کے لیے کیسے آگے بڑھنا ہے، مجھے ڈر ہے کہ کثیر الجماعتی حل اعتماد کی فضا قائم نہیں کرے گا اور اس طرح کے بار بار ہونے والے تجربات سے کوئی نتیجہ خیز صورتحال نہیں نکلے گی، جیسا کہ ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے چیلنجز (مثلاً بلند شرح سود، مہنگی بجلی، بےروزگاری، صنعتی پیداوار میں کمی) معاشی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں، گزشتہ ڈھائی برس میں بہت سے ایس ایم ایز کو چیلنجز کا سامنا رہا ہے جبکہ ان میں سے کچھ اپنے پلانٹس بند کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ سب سے پہلے سیاسی استحکام اور ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی پر توجہ دیں، یہ کام صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب ایک پارٹی کی حکومت پارلیمنٹ میں دوسری جماعتوں کی حمایت سے قائم ہو۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کے اے ٹی آئی)کے صدر جوہر قندھاری نے نئی حکومت کو معیشت پر توجہ مرکوز کرنے اور طویل مدتی اقتصادی پالیسی کے فوری نفاذ کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ایک مضبوط صنعتی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، شرح سودکم کرنے اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانے کا مطالبہ کیا۔

جوہر قندھاری نے آنے والی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میثاق معیشت پر توجہ مرکوز کرے اور ایک جامع، طویل مدتی پالیسی کے تحٹ ٹیکس اصلاحات نافذ کرے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت صنعتی شعبے کے لیے سستی بجلی اور گیس کو یقینی بنائے تاکہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھایا جا سکے۔

پیٹرولیم اور سی این جی انڈسٹری کے رہنما ملک خدا بخش نے بھی تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملک کے سیاسی، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی صورتحال بےیقینی کا شکار ہے کیونکہ پاکستان کو آئندہ 6 ماہ میں بہت سی ادائیگیاں کرنی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں