نواز شریف کو اپوزیشن میں ساتھ بیٹھنے کی دعوت دیتا ہوں: مولانا فضل الرحمٰن

’’ہمارا جرم ہے کہ ہم نے اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف حماس کے مؤقف کی حمایت کی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے پچھلے ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے تو نو مئی کا بیانیہ دفن ہوچکا اور قوم نے غداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ نے آٹھ فرروری 2024 کے انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’’الیکشن کمیشن کے شفاف انتخابات کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا۔‘‘

شہباز شریف کو وزارتِ عظمی کا ووٹ دینے کے سوال پر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے اتحادی نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں تحفظات کے ساتھ بیٹھیں گے۔ نواز شریف کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کو دھاندلی سے دوچار کرنے کی سازش عالمی غیر اسلامی ایجنٹوں کے ذریعے کی گئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ "ہمارا جرم ہے کہ ہم نے اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف حماس کے مؤقف کی حمایت کی۔"

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ "ہم ایک نظریاتی قوت ہیں بین الاقوامی مسائل پر کسی سمجھوتے کا شکار نہیں ہوں گے۔" جے یو آئی کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن اشارہ دیتے ہیں کہ بڑی بڑی رشوتیں لی گئی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ تھا کہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو رہی ہے اور جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے تو نو مئی کا بیانیہ دفن ہو چکا اور قوم نے غداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔ ہم اپنے عظیم مقاصد کے لیے تحریک چلائیں گے، کارکن اس میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مرکزی مجلس عاملہ نے مرکزی مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ وہ جماعت کی پارلیمانی سیاست کے بارے میں فیصلہ کرے کہ ’جمعیت مستقل طور پر پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہو اور عوامی جدوجہد کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں عوام کی حقیقی نمائندگی کی حامل اسمبلیوں کے انتخاب کو ممکن بنایا جا سکے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں