یواےای میں مقیم پاکستانی کمپنی کانیپال میں فری لانسنگ ماحولیاتی نظام کی تعمیرکامعاہدہ

ڈیلسنز گروپ نیپال میں انٹرنیٹ کے نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے کانفرنس اور پروگرام منعقد کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مقیم ایک پاکستانی کمپنی نے کٹمنڈو میں ایک ڈیجیٹل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فرم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ پروگرامرز اور انٹرنیٹ کے دیگر پیشہ ور افراد کے لیے صلاحیت سازی کے پروگراموں اور کانفرنسوں کا اہتمام کرکے نیپال میں فری لانسنگ ایکو سسٹم کی تعمیر کی جائے۔

نیپال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی تقریباً 20.8 فیصد آبادی 16 سے 25 اور 40.7 فیصد 16 سے 40 سال کی عمر کے درمیان آتی ہے اس لیے یہاں انٹرنیٹ پر مبنی کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔

یو اے ای میں مقیم ڈیلسنز گروپ کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا، "ہم نے پاکستان میں فری لانسرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے زبردست مہارت حاصل کی ہے جس میں کمرشل بینکوں، براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے فراہم کنندگان اور یونیورسٹیوں سمیت مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کیا گیا ہے جو بالآخر فری لانسرز کو بااختیار بناتے اور جنوبی ایشیا کی معیشت میں ان کا حصہ بڑھاتے ہیں۔ اب ہمیں ایک علاقائی ملک کے ساتھ مہارت کا اشتراک کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔"

اس معاہدے پر دستخط کرنے والے نیپال انٹرنیٹ فاؤنڈیشن کے صدر بکرم شریستھا نے کہا، تیز رفتار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے۔

اس لیے ہمارا تھنک ٹینک ہر ضروری اور ابھرتے ہوئے رجحان کو نیپال کے عوام میں متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ "نیپال کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے کہ عالمی فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر اپنے کلائنٹس کو خدمات فراہم کرتے ہوئے قومی معیشت میں حصہ لیں۔"

ڈیلسنز گروپ کے سی ای او طفیل احمد خان نے فری لانسنگ کو "جنوبی ایشیائی معیشتوں میں پیسہ کمانے کا ابھرتا ہوا طریقہ" قرار دیا اور مزید کہا کہ اسے متعدد شعبوں میں ٹیلنٹ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا، "کسی بھی ملک میں فری لانسرز کی نمائندگی ان کے حقوق کی وکالت کرنے اور قومی سطح پر مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کی طرح نیپال میں ڈیلسنز گروپ فری لانسرز کے لیے ایک قومی سطح کا پلیٹ فارم بنائے گا تاکہ [اس کے] انسانی ٹیلنٹ کو سپورٹ کیا جا سکے۔"

مزید برآں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی گروپ مختلف کارپوریشنز کو سرکاری اور نجی شعبوں میں شامل کرے گا تاکہ ان کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور مختلف ممالک کے ساتھ نیپال میں ترسیلاتِ زر کے چینلز قائم کرنے میں مدد ملے۔ ڈیلسنز گروپ کو ماضی میں اس طرح کے کام کرنے کا تجربہ ہے اور اس نے اپنے ملک میں پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن بنائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں