بچایا گیا بنگالی چیتا ’بابو‘ اسلام آباد سے جنوبی افریقہ کی پناہ گاہ منتقل

دسمبر 2022 میں شدید کمزور اور زخمی حالت میں ملنے والا چیتا پناہ گاہ میں دوسرے جانوروں کے ہمراہ رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دو سال قبل اسلام آباد میں بچائے گئے ایک بنگالی چیتے کی نگہداشت کرنے والے پاکستان کے ایک سرکاری ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ چیتے کو اس ہفتے کامیابی سے جنوبی افریقہ میں محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا۔

"بابو" کی عمر چار ماہ تھی جب یہ پاکستانی جنگلی حیات کے حکام کو سات دسمبر 2022 کو اسلام آباد میں جانوروں کے ڈاکٹر کے دفتر میں ملا۔ وہ شدید غذائی کمی کا شکار تھا اور اس کی دس سے زیادہ ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد سے وہ اسلام آباد جنگلی حیات مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) اور سیکنڈ چانس وائلڈ لائف کی نگرانی میں تھا۔

جنوبی افریقہ میں دی اسپینال فاؤنڈیشن کے ساتھ مشاورت سے آئی ڈبلیو ایم بی بابو کو طبی علاج اور بحالی کی دیکھ بھال فراہم کرتا رہا ہے جس میں تجویز کردہ خوراک، روزانہ جسمانی تھراپی اور سورج کی روشنی میں نکلنا شامل تھا۔

آئی ڈبلیو ایم بی نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "بابو جو اب 17 ماہ کا ہے اور اس کا وزن 70 کلوگرام سے زیادہ ہے، اس نے جنوبی افریقہ کا اپنا وسیع سفر بحفاظت مکمل کر لیا ہے۔"

چیتے کو بذریعہ سڑک اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچایا گیا اور پھر دو بین الاقوامی پروازوں اور جنوبی افریقہ کے او آر ٹامبو بین الاقوامی ہوائی اڈے سے "سڑک کا ایک طویل سفر" کیا جس کے بعد وہ اسنڈائل بگ کیٹ اینڈ پریڈیٹر سینکچری پہنچا جو مشرقی فری سٹیٹ صوبے کے خوبصورت وِٹبرگ پہاڑوں میں واقع ہے۔

آئی ڈبلیو ایم بی نے کہا، "بابو اسنڈائل میں ایک اور بچائی گئی مادہ سے جا ملے گا،" اور مزید کہا کہ وہ خصوصی طور پر بنائے گئے پلیٹ فارمز اور ایک سپلیش پول میں رہے گا۔

جانوروں کی اس پناہ گاہ میں فی الحال امبر نامی تنہا مادہ ہے جس کے انکلوژر کی دیوار بابو کے نئے انکلوژر سے ملحق ہے تو "امید ہے کہ یہ دونوں آخرکِار ایک خاص تعلق میں شریک ہوں گے۔"

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ پاکستانی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی کے تحت کام کرتا ہے۔ پرعزم افراد کا تشکیل کردہ ادارہ سیکنڈ چانس وائلڈ لائف اسلام آباد دارالحکومت کے علاقے کے اندر زخمی، سمگل شدہ اور شکار کردہ جنگلی جانوروں کو بچانے، ان کی نگہداشت اور بحالی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

اسپینال فاؤنڈیشن جنگلی حیات کے تحفظ کا ایک مشہور خیراتی ادارہ ہے جو خطرے سے دوچار جانوروں اور ان کی رہائش گاہوں کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔ اسنڈائل بگ کیٹ اینڈ پریڈیٹر سینکچری بڑی بلیوں کی ایک اخلاقی، رجسٹرڈ غیر منافع بخش پناہ گاہ ہے جو ضرورت مند بڑی بلیوں کو دائمی مسکن فراہم کرتی ہے۔ ایک نئی قائم شدہ پناہ گاہ کے طور پر یہ اس سے قبل 3 شیروں اور 2 چیتوں کو نازک حالات سے بچا چکی ہے۔

فور پاز نامی ادارے سمیت جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے پاکستان کے چڑیا گھروں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں جانوروں کو انتہائی ناقص حالت میں رکھا جاتا ہے۔ گزشتہ اپریل میں ایک ہتھنی نورجہاں طویل علالت کے بعد پاکستان کے کراچی چڑیا گھر میں مر گئی تھی۔ اس واقعے سے ملک کے چڑیا گھر پر خاصی تنقید ہوئی۔ وہ 17 سال کی عمر میں مر گئی جبکہ افریقی ہاتھی کی اوسط عمر 60 سے 70 سال ہوتی ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں دو شیر دم گھٹنے سے مر گئے جب منتظمین نے دھوئیں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ان کے پنجروں سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور سفید شیر کے کئی بچے مر چکے ہیں۔ امریکی مشہور شخصیت چیر برسوں تک کاون ہاتھی کو آزاد کرانے کی کوشش کرتی رہیں جس کے بعد وہ 2020 میں کاون کو کمبوڈیا کی ایک پناہ گاہ میں لے جانے کی غرض سے رخصت کرنے کے لیے پاکستان آئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں