طالبان کےنائب وزیرِخارجہ کی جانب سےڈیورنڈ لائن کومسترد کرناحقائق کوتبدیل نہیں کرسکتا

طالبان کے نائب وزیرِ خارجہ کا تبصرہ ہمارے سیکورٹی خدشات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان کے نائب وزیرِ خارجہ نے ہفتے کے روز 2,640 کلو میٹر طویل ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے طور پر مسترد کر دیا جس پر پاکستان نے تالیاں بجاتے ہوئے کہا کہ ایسے "تصوراتی" دعوے جغرافیائی اور تاریخی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

افغان خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق طالبان کے نائب وزیرِ خارجہ شیر محمد عباس ستانک زئی نے کہا کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو پاکستان کے ساتھ اپنی سرکاری سرحد کے طور پر کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ اعلان سوویت یونین کے افغانستان سے انخلاء کی 35 ویں سالگرہ کی یاد میں لوگر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔

ڈیورنڈ لائن 1893 میں برطانوی ہند کے نمائندہ سر مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان کے درمیان ایک معاہدے کے ذریعے قائم کی گئی تھی جس سے قبائلی علاقے دو حصوں میں اور پشتون اور بلوچ نسلی لوگوں کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا۔

1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سے آج تک یہ لائن افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے طور پر کام کرتی ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن دونوں ریاستوں کے درمیان سرکاری سرحد ہے جبکہ افغانستان نے تاریخی طور پر اسے مسترد کر دیا ہے۔

ستانک زئی کے بیان کے بارے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تبصرے کو "خود غرضی" اور اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا، "پاک افغان سرحد کی قانونی حیثیت اور تقدس کے حوالے سے کوئی بھی خود غرضانہ اور تصوراتی دعوے جغرافیہ، تاریخ اور بین الاقوامی قانون کے حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔"

"افغان فریق کو بخوبی مشورہ دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کے حقیقی سکیورٹی خدشات کو دور کرے بجائے اس کے کہ اس طرح کے افسوس ناک عوامی اعلانات سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جائے۔"

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور اس کی وجہ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے شمال مغربی اور جنوب مغربی حصوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں بشمول خودکش دھماکوں میں اضافہ ہے۔

ان حملوں نے گذشتہ سال اسلام آباد کو تمام غیر قانونی تارکینِ وطن اور زیادہ تر افغانیوں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ پچاس لاکھ سے زیادہ افغان جن میں سے کچھ کئی عشروں سے پاکستان میں رہائش پذیر تھے، تب سے واپس چلے گئے ہیں یا طالبان کے زیرِ قیادت افغانستان میں بے دخل کر دیئے گئے ہیں۔

پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے تاہم اس وقت کہا تھا کہ ان کی حکومت صرف غیر قانونی سفر کے خلاف تھی اور درست دستاویزات کے ساتھ افغانی پاکستان کا سفر کر سکتے تھے۔

ہفتے کے روز اپنے بیان میں بلوچ نے کہا، پاکستان "بین الریاستی تعلقات" کے اصولوں کی بنیاد پر پاک-افغان سرحد کے پار لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر منظم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

بلوچ نے مزید کہا، "ہم اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں