غزہ جنگ؛ پاکستانی دانشوروں کا ادبی میلے میں اسرائیل نواز مصنفہ کو دعوت دینے پر احتجاج

اسرائیلی جارحیت کے سامنے غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں: پاکستانی دانشوروں کا کے ایل ایف کو خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستانی نژاد ماہرینِ تعلیم، مصنفین، کارکنان، طلباء اور پیشہ ور افراد کے ایک گروپ نے کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں اس مہینے ہونے والے پروگرام میں مقرر کے طور پر جرمنی میں مقیم اسرائیل نواز مصنفہ و شاعرہ رونیا اوتھمن کو مدعو کرنے کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے۔

کراچی ادبی میلہ ہر سال پاکستان اور دنیا بھر سے ادباء، ناقدین اور دانشوروں کو مجتمع کرتے ہوئے ادب کا جشن مناتا ہے۔ اس میں پڑھنے، مباحثے، کتاب کی رونمائی اور دستخط سمیت متعدد سرگرمیاں شامل ہیں۔

میلے کا مقصد ادب سے محبت پیدا کرنا، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ اور اہم معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی مسائل پر مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

البتہ اس کی انتظامیہ کا اوتھمن کو مدعو کرنے کا فیصلہ کئی لوگوں کو پسند نہیں آیا، نہ صرف ان کی اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے بلکہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق مسائل پر ان کے متنازعہ تبصروں اور موقف کی وجہ سے بھی۔

خط کے آغاز میں اعلان کیا گیا، "ہم زیرِ دستخطی کراچی لٹریچر فیسٹیول کے 2024 کے سیشن کے لیے رونیا اوتھمن کو بطور اسپیکر مدعو کرنے کے فیصلے پر اپنی گہری پریشانی اور غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے فکرمند پاکستانیوں کی حیثیت سے یہ خط لکھ رہے ہیں۔ اوتھمن جرمنی میں مقیم ایک مصنفہ ہیں جنہوں نے صیہونی اور اسلامو فوبک پوزیشن لی ہیں اور ایسے پینلز اور مباحثوں میں حصہ لیا ہے جن کا مقصد جرمنی میں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں کو یہود مخالف اور اسلام پسند کے طور پر بدنام کرنا ہے۔"

خط میں تحریر تھا کہ اوتھمن اور ان کے ساتھی پینلسٹ گذشتہ نومبر میں جرمن اخبار ٹی اے زیڈ کے زیرِ اہتمام ایک مباحثے کے دوران اس بات پر قائم تھے کہ فلسطینیوں سمیت مسلمان تارکینِ وطن اسرائیل کے 75 سالہ قبضے کے خلاف فلسطینی مزاحمت کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنے کی بنا پر "جہادی" اور "دہشت گرد" ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے حماس کی اصلیت کے بارے میں بے بنیاد دعوے کرتے ہوئے اسے داعش سے تشبیہ دی اور اعلان کیا کہ غزہ پر اسرائیل کی بے دریغ بمباری کو چیلنج کرنے والے غیر سفید مصنفین نہ صرف حماس کے معذرت خواہ تھے بلکہ انہوں نے "قتلِ عام کو اپنا ذاتی دفاع اور مظلوم کو خونخوار مجرم قرار دیا۔"

خط میں کہا گیا، "بحیثیت پاکستانی ہمیں اوتھمن کا بطور سپیکر انتخاب ناقابلِ قبول بلکہ درحقیقت پرتشدد لگتا ہے اور خاص طور پر اس بنا پر کہ فلسطینیوں کی اسرائیلی نسل کشی چھٹے مہینے میں داخل ہو گئی ہے جس میں 28,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں سے 10,000 سے زیادہ بچے تھے۔ اسرائیل نے جان بوجھ کر شعراء اور اساتذہ، ڈاکٹروں اور سب سے پہلے ردِعمل دینے والوں کو قتل کیا ہے۔ اپنی نسل کشی کی مہم میں اس نے غزہ میں ہر ایک یونیورسٹی سمیت تمام اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔"

خط میں مزید کہا گیا، "بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اپنے عارضی اقدامات کے حکم میں قرار دیا ہے کہ جنوبی افریقی کیس درست ہے جس میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ تاریخ کے اس نازک لمحے میں جب پوری دنیا کے باضمیر لوگ اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں، کے ایل ایف نے صیہونی اور نسل کشی کی معذرت خواہ ادیبہ کو مدعو کرنے اور پلیٹ فارم دینے کا انتخاب کیا ہے۔"

کھلے خط میں کہا گیا کہ اسے تحریر کرنے والوں نے گہری ذہنی تقسیم کے حامل ملک میں ادبی اور فکری گفتگو کے لیے کے ایل ایف کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ تاہم اس میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جاری فوجی مہم کے سامنے غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے بہت سے فلسطینی جان سے گئے۔

کے ایل ایف نے اپنی ویب سائٹ پر مقررین کی فہرست سے اوتھمن کا نام ہٹا دیا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کا جاری فوجی حملہ جو گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوا تھا، پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر مقبول رہا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے اس پر تنقید بھی کی گئی ہے۔

یہ فلسطینی مقصد کے لیے پاکستان کی دیرینہ حمایت اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کی مخالفت کے بھی عین مطابق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں