مجھ پر الزامات عائد کرنے والے ثبوت بھی تو پیش کریں، چیف جسٹس

انتخابات میں مبینہ دھاندلی: پاکستان بار کونسل کا آزاد کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ’الزام لگانا آپ کا حق ہے تو ثبوت بھی پیش کر دیں۔‘

سنیچر کی شام کو سپریم کورٹ میں وی لاگرز سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی میں اپنے کردار کے حوالے سے کمشنر راول پنڈی کے الزامات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کوئی بھی الزام لگا سکتے ہیں، کل کو مجھ پر چوری کا الزام لگا دیں، قتل کا الزام لگا دیں۔‘

کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے آٹھ فروری بروز ہفتہ انتخابات کے دوران راولپنڈی ڈویژن میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 9 کے انتظامات کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں حالیہ عام انتخابات میں اپنی زیر نگرانی دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر پر بھی اس عمل میں ’پورے شریک‘ہیں۔

پنجاب حکومت نے لیاقت چھٹہ کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے ڈی جی راول پنڈی ڈوپلپمنٹ اتھارٹی محمد سیف انور جپہ کو کمشنر کا اضافی چارج سونپ دیا ہے۔

لیاقت چھٹہ کے الزامات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وی لاگرز سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کے انعقاد سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

انہیں جب بتایا گیا کہ انہیں کمشنر راول پنڈی نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا ہے تو انہوں نے حیران ہو کر کہا ’واقعی؟‘ اور ساتھ ہی کمشنر کے بارے میں بھی پوچھا کہ ’وہ کون صاحب ہیں؟‘

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ چیف جسٹس کا الیکشن کے انعقاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور آئینی طور پر الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے پٹیشنز آتی ہیں جن کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس سے جب کہا گیا کہ ایک سرکاری افسر ان پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ان (کمشنر) سے پوچھیں، اگر کوئی ثبوت ہے تو بتا دیں۔ میرے ذات کو آپ ایک طرف چھوڑ دیں۔ پاکستان میں ادارے ہیں ان کو تباہ نہ کریں مزید۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں ایک ادارے کا سربراہ بھی ہوں، اگر آپ بے بنیاد الزامات لگا دیں، نہ ان میں کوئی ذرہ سے صداقت یا سچائی ہو، پھر آپ کوئی بھی الزام لگا سکتے ہیں۔ ’کل کو آپ مجھ پر چوری کا الزام بھی لگا دیں، قتل کا الزام لگا دیں۔ الزام لگانا حق ہے تو ساتھ میں ثبوت بھی دے دیں۔‘

جسٹس فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے تو الیکشن کے انعقاد میں تاخیر کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا وہ ان الزامات پر توہین عدالت لگائیں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر توہین عدالت لگانے کے خلاف ہیں۔

پاکستان بار کونسل کا مطالبہ

ادھر پاکستان بار کونسل نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے چیف جسٹس پر لگائے گئے الزامات پر پاکستان بار کونسل نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر الزامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے کہا تھا کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ اپنے ماتحت عملے کے ذریعے نتائج تبدیل کروں۔ انہوں نے چیف جسٹس کے دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی نے چیف جسٹس کے دھاندلی میں ملوث ہونے کے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے۔ پوری وکلا برادری چیف جسٹس، دیگر ججز اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے مطابق اس طرح کے جھوٹے الزامات چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے۔ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

بار کونسل نے کہا ہے کہ متعلقہ ادارے سابق کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تحقیقات کریں، سیاسی جماعتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز آزادانہ کمیشن قائم کریں۔

بار کونسل نے کہا ہے کہ کمیشن انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرے، کیونکہ دھاندلی کی تحقیقات کے بعد ہی ملکی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل نے یہ بھی کہاکہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوا ہے۔ سپریم کورٹ بار کا الیکشن کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ انصاف سے مذاق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں