مریم نواز شریف: پاکستان کی اولین خاتون وزیرِ اعلیٰ کے طور پر تاریخ رقم کرنے کو تیار

بدھ کو مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی پہلی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

تین بار کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف پاکستانی صوبے پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ کے طور پر تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہیں جو ملک کا خوشحال ترین، گنجان آباد ترین اور سیاسی طور پر اہم ترین خطہ ہے۔

50 سالہ مریم اپنے والد کی پاکستان مسلم لیگ-ن پارٹی میں ایک بااثر کردار ادا کرتی ہیں جنہوں نے مریم کو اپنی سیاسی وارث کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ پارٹی کی سینئر نائب صدر ہیں۔

بدھ کے روز نامزد وزیرِ اعلیٰ نے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی پہلی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی جو 127 ملین سے زیادہ نفوس پر مشتمل پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔

پنجاب ملک کے سب سے زیادہ سیاسی درجۂ حرارت کے حامل میدانِ جنگ کی حیثیت رکھتا ہے جس کی پاکستان کی پارلیمنٹ کی 326 نشستوں میں سے 173 نشستیں ہیں اور یہ ملک کی سیاسی، فوجی اور صنعتی اشرافیہ کا مرکز ہے۔

پنجاب کا کنٹرول شریفوں کی مسلم لیگ ن پارٹی کی طاقت کو تقویت دے گا جس کی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) شدید مخالفت کرتی ہے جو ملک کی مقبول ترین جماعت ہے۔

مریم نے اجلاس میں کہا، "اللہ نے مجھے پاکستان کی بالعموم اور پنجاب کی بالخصوص پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ ہونے کا اعزاز عطا کیا۔"

"اگرچہ فی الحال میں صرف نامزد وزیرِ اعلیٰ ہوں لیکن یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو میں ہر پاکستانی ماں، بیٹی، بہن، لڑکی اور ان [خواتین] قانون سازوں کے نام منسوب کرنا چاہتی ہوں جو یہاں منتخب اور مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔"

پارٹی نے بدھ کے روز ایک ایکس پوسٹ میں کہا، "مریم نواز شریف وہ سہارا ہیں جنہوں نے سیاست کے گرم و سرد میں مسلم لیگ ن کو مستحکم رکھا ہے۔ انہوں نے پارٹی کی تعمیرِ نو کی اور اب پنجاب کی تعمیرِ نو کریں گی۔"

پارٹی کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں اگلی وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے مریم نواز کی ترجیحات اور صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کی حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سیاست میں آنے سے پہلے مریم نواز شریف خاندان کی فلاحی تنظیموں سے وابستہ تھیں اور شریف ٹرسٹ، شریف میڈیکل سٹی اور شریف ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ انہوں نے 2012 میں باضابطہ طور پر سیاست میں شمولیت اختیار کی جب انہیں 2013 کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا جس میں پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور ان کے والد تیسری بار وزیرِ اعظم کے عہدے پر پہنچے۔

انتخابات کے بعد انہیں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا جہاں سے انہوں نے 2014 میں اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا جب ان کی تقرری کو سیاسی حریف عمران خان کی جانب سے اقربا پروری کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی یونیورسٹی کی ڈگری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

وہ 2017 میں سیاسی طور پر اس وقت زیادہ سرگرم ہوئیں جب ان کے والد کو وزیرِ اعظم کے عہدے سے نااہل قرار دیا گیا اور پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاناما پیپرز میں بدعنوانی کے انکشافات کے سلسلے میں انہیں سزا سنائی۔ انہوں نے لاہور کے حلقہ این اے 120 میں شریف کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات کے دوران اپنی والدہ کلثوم نواز کے لیے مہم چلائی۔

مریم کو 2018 میں انسدادِ بدعنوانی کی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا اور لندن میں اعلیٰ درجے کے اپارٹمنٹس کی خریداری سے متعلق بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کے مقدمے میں انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے والد کو بھی اس کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی کیونکہ وہ جائیدادیں خریدنے کے لیے ذرائع آمدن ظاہر کرنے میں ناکام رہے تھے۔ انہیں 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا تھا کیونکہ سزا یافتہ مجرم پاکستانی قانون کے تحت عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔

مریم کو ستمبر 2022 میں اس کیس سے بری کر دیا گیا تھا جب چند ماہ بعد عمران خان کو پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ میں وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کے چچا شہباز شریف وزیرِ اعظم بن گئے تھے۔

مریم اپنے والد کی برطانیہ میں چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران سیاست میں تیزی سے شامل ہوئیں اور 2019 میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مقرر ہوئیں۔ انہوں نے ملک بھر میں حکومت مخالف اہم ریلیوں کی قیادت کی اور اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کی شدید مذمت کی کہ ان کی جماعت پی ٹی آئی اور فوج اور عدلیہ نے ان کے والد کو وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے ساز باز کی۔

3 جنوری 2023 کو مریم کو مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مقرر کیا گیا جس سے وہ پارٹی کی ایک سینئر ترین رہنما بن گئیں۔ انہوں نے 8 فروری کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 119 لاہور-3 سے اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پی پی 159 لاہور-15 کے لیے انتخاب لڑا۔ یہ ان کا پہلا عام انتخاب تھا۔ انہوں نے دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور انہیں پارٹی نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے لیے امیدوار نامزد کیا۔

پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ کے طور پر مریم کی امیدواری ایک اہم سنگِ میل کی نمائندگی کرتی ہے جو قیامِ پاکستان کے سات عشروں سے زیادہ عرصے کے بعد آنے والا ہے۔ یہ عہدہ وزیرِ اعظم کے بعد ملک کی دوسری اہم ترین سیاسی تقرری ہے۔

مریم کو سیاست میں آنے سے پہلے تنازعات کا بھی سامنا رہا۔

جب وہ لاہور کے ایلیٹ کنیئرڈ کالج میں خراب تعلیمی پوزیشن کی وجہ سے داخلہ لینے میں ناکام رہیں تو ان کے والد، اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پرنسپل کو ڈیوٹی سے معطل کر دیا۔ کالج کے طلباء اور عملے کی ہڑتال کے باعث پرنسپل بحال ہو گئے۔ مریم نے بعد میں 1980 کے عشرے کے آخر میں لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا لیکن غیر قانونی داخلے کے تنازع کی وجہ سے انہیں یہ چھوڑنا پڑا۔

1992 میں انہوں نے 19 سال کی عمر میں صفدر اعوان سے شادی کی جو اس وقت پاک فوج میں کیپٹن کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور نواز شریف کے اس وقت کے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں ان کے سیکیورٹی آفیسر تھے۔ جوڑے کے تین بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں