"ملک میں بنکاری کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کا ہدف 2027 تک حاصل ہو جائے گا "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے مرکزی بنک نے بدھ کے روز اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق 2027 تک تمام بنکاری نظام کو اسلامی بنکاری میں بدلنے کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ بات سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے بدھ کے روز وزیر خزانہ کے سربراہی میں قائم کمیٹی کو بتائی گئی ہے۔ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل حکم دیا دیا تھا کہ ملکی معیشت کو سود سے پاک کیا جائے بشمول ملک میں جاری بنکاری نظام کو بھی سود سے پاک اسلامی قالب میں ڈھالا جائے۔ گورنر سٹیٹ بنک نے بدھ کے روز اس کے بارے میں بتایا کہ اس سلسلے میں کوششیں تیز رفتاری سے جاری ہیں۔

اپریل 2022 میں وفاقی شرعی عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ سود کی تمام شکلیں ممنوع ہیں اور اس کے ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ دسمبر 2027 تک سود سے پاک نظام قائم کیا جائے اور ابھی سے اس کے لیے اقدامات شروع کر دیئے جائے۔

عدالتی فیصلے کا تقاضا پے کہ ان تمام قانونی تقاضوں کو بھی پورا کیا جائے جو ماضی میں سودی نظام کو تحفظ دینے کے لیے موجود تھے اور اب انہیں سود سے پاک معیشت کے لیے بدلنا ضروری تھا۔ ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس قانونی فیصلے پر عمل در آمد کے لیے ہم تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مقررہ مدت تک اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان کے حکام نے وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک پر مشتمل کمیٹی کو بتایا ہے جو کہ عدالتی حکم کے سلسلے میں سود سے پاک معیشت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی نگرانی کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں اس کے علاوہ دو ڈپٹی گورنرز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گہے جو اس سودی نظام کی تبدیلی کے مرحلے کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد شعبے اس مقصد کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں جو کہ اس کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک نے مزید بتایا کہ غیر سودی بنکاری نظام کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے قانونی ضابطوں پر کام جاری ہے تاکہ نئے معاشی نظام کو تشکیل کے ساتھ ساتھ عامی قرضے کو کیسے غیر سودی قالب میں ڈھالنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں ان پر بھی کام جاری ہیں۔

'ہم پر امید ہیں کہ انشاءاللہ ہم سب کی مجموعی کوششوں سے اور جو معاشی ڈھانچہ ہم بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اس کو ہم مقررہ وقت پر مکمل کرسکیں گے۔' ڈپٹی گورنر نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سودی نظام نے ایک نا انصافی پر مبنی نظام کو تشکیل دیا ہے۔ وہ پاکستان میں سود سے پاک معیشت کے جلد از جلد قیام کے لیے پر امید ہیں۔

تاہم مفتی منیب الرحمن نے معاشی نظام کی تبدیلی کو سست رفتار قرار دیا ہے اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ سود سے پاک معیشت کے لیے کیے جانے والے اقدامات سست روی کا شکار ہیں اور اس پر اس طرح تیزی سے کام نہیں ہورہا ہے جیسے کے ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں ضرورت ہے کہ سیاسی اور معاشی قیدات کو اگلے بیس سالوں کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ اس نظام کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اور سود سے پاک معشیت کے لیے کے لیے باقاعدہ طور پر اسلامک بنک کے قیام کے لیے کام کرنا چاہئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں