عالمی مالیاتی فنڈ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ

نیوز بریفنگ میں آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز جولی کوزیک نے کہا کہ ’ہم نئی حکومت کے ساتھ پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے معاشی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کی پالیسیوں پر کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز جولی کوزیک نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے ادارے کو ممکنہ خط کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں لیکن وہ پاکستان کی سیاسی صورت حال پر تبصرہ نہیں کر سکتیں۔

یہ بیان جمعرات کو جولی کوزیک نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا۔

ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف جولی کوزیک نے میڈیا بریفنگ میں معاشی استحکام سے متعلق نگران حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کے دور میں حکام نےمعاشی استحکام کو برقرار رکھا، مہنگائی قابو میں رکھنے، زرمبادلہ بڑھانے کے لیے حکام نے سخت مانیٹری پالیسی پر عمل کیا۔

جولی کوزیک نے بتایا کہ 11 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے ریویو کی منظوری دی جس کے تحت پاکستان کو 1.9 ارب ڈالر جاری ہوئے، قرض پروگرام سے پاکستان کو معاشی استحکام کی کوششوں میں مددمل رہی ہے۔

ڈائرکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف نے کہا کہ قرض پروگرام میں مضبوط فوکس کمزور طبقے کا تحفظ ہے، پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ پالیسی پر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ وسیع تر اقتصادی استحکام اور پاکستانی شہریوں کی خوشحالی یقینی بنائی جائے۔

بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے مبینہ انتخابی دھنادلیوں کو جواز بنا کر آئی ایم ایف کو خط لکھنے اور امداد دھاندلیوں کی عدلیہ سے تحقیقات مشروط کیے جانے کا بھی صاف جواب دیدیا اور منہ بنا کر کہا کہ وہ جاری سیاسی امور پر تبصرہ نہیں کریں گی، جو کہنا تھا اس میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے اگلے معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کو عوام کی منتخب حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں ناکہ دھاندلی سے اقتدار پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھ۔

پاکستان نے گذشتہ موسم گرما میں آئی ایم ایف کے قلیل مدتی بیل آؤٹ کی بدولت ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کو ٹال دیا تھا لیکن یہ پروگرام اپریل میں ختم ہو رہا ہے اور نئی حکومت کو معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے طویل مدتی انتظامات پر بات چیت کرنا ہوگی۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ نیوز نے جمعرات کو ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان اس سال واجب الادا اربوں ڈالرز کا قرض ادا کرنے میں مدد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کم از کم چھ ارب ڈالر کا نیا قرض حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک آئی ایم ایف کے ساتھ ایک توسیعی فنڈ پر بات چیت کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس نے مزید کہا کہ عالمی ادارے کے ساتھ بات چیت مارچ یا اپریل میں شروع ہونے کی امید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں