پاکستانی طلبہ کا مصوری اور شاعری کے ذریعے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم 'انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز' نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ جس میں مختلف ملکوں کے سفیروں، دانشوروں اور اور ماہرین تعلیم کے علاوہ بچوں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پانچ مختلف تعلیمی اداروں کے تقریباً 120 سے زائد طلبہ اور بچوں نے شرکت کی۔ سفیروں، ماہرین سفارت و تعلیم اور دانشوروں نے اس موقع پر پاکستانی طلباء کے فلسطین کاز کے بارے میں موقف کو خوب سراہا۔ ان بچوں کی عمریں پانچ سے بارہ سال تک تھیں۔

تقریب کے سفیروں نے جمعرات کو اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف ساڑھے چار ماہ سے جاری بد ترین جنگ کی مذمت کی اور پاکستانی طلباء کی طرف سے فلسطینیوں کے حق میں پیش کی گئی نظموں اور نمائش کے لیے تیار کردہ پینٹنگز کو خوب سراہا ہے۔

تقریب میں بتایا گیا کہ سات اکتوبر سے اب تک 30000 کے لگ بھگ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں 70 فیصد خواتین اور بچے بھی ہیں۔ بے گھر فلسطینیوں کی تعداد 23 لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔

پاکستان میں جنوبی افریقی ہائی کمیشن کے ایک کونسلر برائن وٹبوئی نے پاکستانی بچوں کی طرف سے دیے گئے اس پیغام کے بارے میں کہا ' یہ پیغام پوری دنیا کو دکھانا چاہیے کہ کوئی بھی غزہ کو کسی کو بھی بھولنا نہیں چاہیے۔ جو غزہ کے فلسطینیوں کے بارے میں بے رحمانہ اور دوہرا معیار اختیار کریں گے دنیا انہیں قبول نہیں کرے گی۔'

پاکستان میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر احمد جواد اے۔ ربیعی نے کہا کہ پاکستانی بچوں کی طرف سے فلسطینی عوام کے لیے حمایت کا پیغام قابل قدر ہے۔ ان بچوں نے ہم فلسطینیوں کو بتایا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہے۔ ہم اس جذبے کی تعریف کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں