پاکستان خلیجی ریاستوں اور چین کو زرعی برآمدات کے ذریعے سالانہ 10بلین ڈالر بچا سکتا ہے

کراچی میں میلہ مویشیاں کا آغاز، سرمایہ کاری کے مواقع اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو نمایاں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے جمعرات کو کراچی میں تیسرے سالانہ میلہ مویشیاں کی افتتاحی تقریب میں کہا، پاکستان زرعی شعبے میں درآمدی متبادل اور خلیجی ریاستوں اور چین کو اجناس کی برآمد کے ذریعے سالانہ 10 بلین ڈالر کی بچت کر سکتا ہے۔

ڈیری، ایگریکلچر، لائیو سٹاک، فشریز اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا میلہ مویشیاں ہر سال پاکستان کے ڈیری، مویشی، زراعت اور ماہی پروری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کو نمایاں کرنے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔

پاکستانی فوج کے تزویراتی منصوبہ جات کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شاہد نذیر نے کہا کہ ملک نے 10 بلین ڈالر سے زائد مالیت کی زرعی مصنوعات درآمد کیں اور ضروری زرِمبادلہ کمانے کے لیے قابلِ برآمد اضافی پیداوار کی ضرورت پر زور دیا۔

نذیر نے میلہ مویشیاں کے افتتاح کے بعد صحافیوں کو بتایا، "پاکستان زرعی شعبے میں درآمدی متبادل اور خلیجی ریاستوں اور چین کو اجناس کی برآمد کے ذریعے سالانہ تقریباً 10 بلین ڈالر کی بچت کر سکتا ہے۔"

22 فروری 2024 کو کراچی، پاکستان میں ڈیری ایگریکلچر، لائیو اسٹاک فشریز اور ایڈوانس ٹیکنالوجی میلہ مویشیاں میں مویشیوں کے ساتھ ان کا منتظم کھڑا ہے۔
22 فروری 2024 کو کراچی، پاکستان میں ڈیری ایگریکلچر، لائیو اسٹاک فشریز اور ایڈوانس ٹیکنالوجی میلہ مویشیاں میں مویشیوں کے ساتھ ان کا منتظم کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں شروع کیا گیا گرین پاکستان انیشی ایٹو جو پاکستان کی حکومت اور فوج کے درمیان ایک مشترکہ کوشش ہے، ملک کی زرعی ترقی کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہتر پیداوار پیدا کرنے کے لیے کسانوں کو غیر استعمال شدہ زمینیں فراہم کرے گا۔

نذیر نے کہا، "اس اقدام کے تحت جدید ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے گا اور خود انحصاری کے حصول کے لیے پاکستان کے زرعی شعبے کی حقیقی صلاحیتیں تلاش کی جائیں گی۔"

"ہمیں زرِمبادلہ کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور زرِمبادلہ کمانے کے لیے 10 بلین ڈالر جمع کرنے کے دو طریقے ہیں۔ دس بلین ڈالر کی بچت کر کے جو زرعی مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہو رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون کا آغاز ہو چکا ہے۔

22 فروری 2024 کو کراچی، پاکستان میں ڈیری ایگریکلچر، لائیو سٹاک فشریز اور ایڈوانس ٹیکنالوجی میلے میں مویشیوں کی نمائش
22 فروری 2024 کو کراچی، پاکستان میں ڈیری ایگریکلچر، لائیو سٹاک فشریز اور ایڈوانس ٹیکنالوجی میلے میں مویشیوں کی نمائش

نذیر نے کہا، "ہم نے تقریباً 100,000 ایکڑ زمین پر گندم کاشت کی ہے اور کپاس اور سورج مکھی کی تیاری کر رہے ہیں۔ سندھ [صوبہ] میں پہلی بار 40 لاکھ سے زائد گانٹھیں پیدا ہوئی ہیں۔"

غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے "ون ونڈو آپریشن" کے طور پر کام کرنے کے لیے گذشتہ سال جولائی میں ایک نئی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی گئی جس میں خلیجی ممالک سے فنڈز حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔ یہ اقدام پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان ایک تعاون ہے جس میں آرمی چیف سمیت فوجی حکام اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں