عالمی عدالت انصاف میں پاکستان نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم پر سوال اٹھا دیا

فلسطینی عوام کے لیے ہمارا موقف واضح ہے، پاکستان نے ہمیشہ ان کے حقوق کا دفاع کیا: احمد عرفان اسلم نگراں وزیر قانون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ فلسطین سے متعلق مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل امن کی کلید ہونا چاہیے۔

نگراں وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے جمعہ کو عالمی عدالت انصاف میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسیاں اور طرز عمل منظم نسلی امتیاز اور نسل پرستی کے مترادف ہے۔

نگراں وزیر قانون نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت کا محافظ رہا ہے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے یروشلم پر اسرائیل کے حملے اور اس کے جغرافیائی حدوں کو تبدیل کرنے کے لیے اسرائیل کے اقدامات سے متعلق حماس اسرائیل جنگ کے چھٹے دن ہی جنرل اسمبلی میں پہلی قرارداد پیش کی۔

نگراں وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کے تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق دو ریاستی حل پر یقین رکھتا ہے جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدیں اور القدس الشریف (یروشلم) فلسطین کا دارالحکومت ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے پاکستان فلسطین کے داخلی استحکام اور یہاں کے عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کا عالمی عدالت کے سامنے یہی مؤقف ہے کہ دو ریاستی حل امن کی بنیاد ہونی چاہیے۔

نگراں وزیر قانون وانصاف احمد عرفان اسلم مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور طرز عمل سے پیدا ہونے والے نتائج سے متعلق کیس میں عالمی عدالت انصاف کی جاری مشاورتی کارروائی میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ کارروائی دسمبر 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور طرز عمل کے قانونی نتائج کے بارے میں عدالت کی مشاورتی رائے طلب کرنے کی درخواست پر شروع ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے، 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اسرائیلی قبضے کے قانونی نتائج کے بارے میں غیر پابند رائے کی درخواست کے بعد اس ہفتے 50 سے زیادہ ریاستوں کے دلائل سن رہی ہے۔

یہ سماعتیں بین الاقوامی قانونی اداروں کو اسرائیل کے طرز عمل کا جائزہ لینے کے لیے فلسطینیوں کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو سات اکتوبر کو اسرائیل میں حماس کے حملوں، جس میں 1،200 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے اور اس کے جواب میں اسرائیل اب تک 29،000 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے۔

سماعتوں میں حصہ نہ لینے والے اسرائیل نے تحریری تبصروں میں کہا ہے کہ عدالت کی یہ سماعتیں مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے حصول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پیر کو فلسطینی نمائندوں نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیں اور کہا کہ اس کی رائے دو ریاستی حل تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ججز کو اس درخواست پر رائے جاری کرنے میں تقریباً چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

نگراں وزیر قانون نے اپنی تقریر میں پناہ گزینوں کی آبادکاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

نمیبیا کے کیس کے فیصلوں کا ذکر

نگراں وزیر قانون نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ اسرائیل نے 1967 سے فلسطینی عوام کے خلاف نسلی امتیاز کا نظام نافذ کر رکھا ہے، یہ ایک ایسا نظام ہے جو جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے فلسطینی آبادی اور یہودی اسرائیلی آباد کاروں کے درمیان نسلی اور مذہبی خطوط پر غیر قانونی طور پر علاقے میں منتقل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یروشلم اس لیے بھی مقدس شہر ہے اور منفرد ہے کہ یہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے مقدس ہے۔ اس تاریخی صورت حال کے تحت یہ عیسائی، مسلم اور یہودی برادریوں کا حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر شہر میں اپنی عبادت گاہوں تک رسائی حاصل کریں اور ان کی عبادت کریں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی حیثیت کو نام نہاد ’ معروضی حکومت ‘ کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جسے ایک ہتھیار کے طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

اسلم نے مطالبہ کیا کہ تاریخی حیثیت کے تحت انسانی اور مذہبی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر قانون نے پھر دہرایا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ 2 ریاستی حل امن کی بنیاد ہونا چاہیے۔

انہوں نے’وال‘ کیس میں آئی سی جے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ مذاکرات میں بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر جلد از جلد تصفیہ طلب مسائل کو حل کیا جاسکے اور ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جاسکے جو اسرائیل اور اس کے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر خطے میں موجود ہو۔

نگراں وزیر قانون نے عدالت سے کہا کہ پاکستان ان معاملات کو دیکھنے کے لیے اپنا مؤقف تھوڑا سا مختلف طریقہ سے تجویز کرکے عدالت کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے اور پھر اس غیر قانونی قبضے کے نتائج برآمد ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں