کراچی میں فلسطینی ماں بیٹیوں کے ’مستند‘ عرب میٹھے پکوان

قنافہ، بسبوسہ اور قطایف - مقامی صارفین کے لیے باعثِ لذت اور خاندان کے لیے ذریعۂ روزگار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

الیکٹریکل انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعلیمی پس منظر کی حامل فلسطینی ایمن الحاج علی نہیں جانتی تھیں کہ اپنے شوہر کی نوکری کی وجہ سے خاندان کے ساتھ یہاں آنے کے بعد وہ ڈیڑھ سال میں پاکستان کے پررونق شہر کراچی کے پکوان کے منظر نامے میں اپنے لیے جگہ بنا لیں گی۔

فلسطین سویٹس کے نام سے ایک آن لائن کاروبار شروع کرتے ہوئے انہوں نے اپنی رسمی تربیت سے بہت الگ ایک ایسے میدان میں قدم رکھا جہاں ان کے پاس اپنی ماں کی روایتی تراکیب کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایمان تربیت کے لحاظ سے شیف نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی کاروباری بننے کی خواہش ظاہر کی ہے پھر بھی انہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ گنجان آباد شہر میں رہتے ہوئے اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں پر نمایاں اثر کیا ہے۔

شرقِ اوسط کے کھانے پاکستان بھر کے لوگوں میں مقبول ہیں جو اپنے بھرپور ذائقوں اور خوشبودار مصالحہ جات کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے باعثِ کشش ہیں۔ لیکن کراچی کے کھانے کے منظرنامے میں زیادہ تر ان لوگوں کا غلبہ ہے جو یا تو 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے وہاں آئے تھے یا پھر ملک کے شمال مغرب سے تعلق رکھنے والے پشتون برادری کے افراد جو اچھے کھانے کے شوق کے لیے مشہور ہیں۔

انہوں نے اس ہفتے عرب نیوز کو بتایا، "میں نے [یہ تراکیب] اپنی ماں سے سیکھی ہیں۔ ان میں سے کچھ آپ جانتے ہیں کہ میں نے خود بنائی ہے یہاں وہاں سے سیکھ کر، پھر ان کو اپنے ورژن میں ڈھال لیا۔"

جبکہ ایمان کے والدین دونوں کی پیدائش اور پرورش فلسطین میں ہوئی، وہ خود کویت میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے والد اس وقت کام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جون 1967 میں عرب-اسرائیل جنگ تک ہر موسم گرما میں فلسطین جایا کرتی تھیں جب ان کا خاندان فلسطین سے باہر رہ رہا تھا۔ جنگ کے بعد سے ایمان الحاج کے خاندان کو بہت سے دوسرے فلسطینیوں کی طرح ان کے آبائی وطن واپس جانے کی اجازت نہیں ملی۔

فلسطین سویٹس صرف ایمان الحاج کا اقدام نہیں ہے بلکہ اس میں ان کی بیٹیاں لیلیٰ اور اسرا بھی شامل ہیں جو دونوں بزنس گریجویٹ ہیں۔ تینوں نے مل کر اسے فلسطین کے شاندار ورثے کی ایک قاش کا پاکستانی عوام کے ساتھ اشتراک کرنے کی دلی کوشش قرار دیا۔

خاص طور پر چونکہ ایمان علی کہتی ہیں کہ پاکستانی فلسطینیوں کے بارے میں بہت کم اور ان کے ملک کے لوگوں کو صرف اسرائیل کی جنگ اور قبضے کے حوالے سے جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "وہ ثقافت کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اور کھانا کسی بھی ثقافت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ پاکستانی کمیونٹی میں فلسطینی میٹھے پکوان متعارف کروانا بہت اچھا ہوگا۔"

تو ایمان الحاج اور ان کی بیٹیوں نے پاکستانی صارفین کو قنافے سے متعارف کرانا شروع کیا جسے ایمان کہتی ہیں کہ فلسطین میں "میٹھے کھانوں کا بادشاہ" کہلاتا ہے۔

یہ شرقِ اوسط کا ایک روایتی میٹھا ہے جو پیسٹری کے ساتھ اور میٹھے، چینی کے قوام میں بھگو کر بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ ڈش جس علاقے میں تیار کی جاتی ہے، اس کے لحاظ سے اس میں کئی تغیرات ہیں لیکن کنافے کو عموماً پنیر، بالائی یا گری دار میوے کی تہہ لگا کر تیار کیا جاتا ہے۔

فلسطین سویٹس کے پیش کردہ شرقِ اوسط کے دیگر میٹھوں میں سوجی کے آٹے سے پکایا گیا کیک بسبوسہ اور قطایف میٹھا شامل ہیں جو اکثر گری دار میوے، مصالحہ جات، پھل اور پنیر سے بھرے ہوئے پینکیکس ہوتے ہیں۔

ڈیزرٹس کے علاوہ آن لائن کاروبار گاہکوں کو مقلوبہ بھی پیش کرتا ہے جو شرقِ اوسط کی چاول کی ایک روایتی ڈش ہے جسے یہ بھیڑ کے گوشت اور بینگن کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

یہ میٹھے کھانے جنہیں ایمان علی اور اس کی بیٹیاں کراچی کے ڈیفنس ایریا میں اپنے اپارٹمنٹ سے ڈیلیوری سروس کے ذریعے فراہم کرتی ہیں، ان کی قیمت 1,000 روپے (3.6) اور 2,250 (8) کے درمیان ہے جو کھانے کے سائز/مقدار کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔

لیلیٰ نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی حالیہ جنگ جس میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 29,000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، نے پاکستانیوں میں فلسطین کے لوگوں کے بارے میں کافی تجسس پیدا کیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ فلسطین سویٹس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر گئے اور ان کے کاروبار کے بارے میں معلوم کیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "تجسس میں اس اضافے کے ساتھ بہت سے لوگوں نے ہمارے پیج پر جانے کا راستہ تلاش کیا۔ اور الحمد للہ بہت سارے کراچی والوں نے ہمارے کاروبار کو سہارا دیا ہے۔"

لیکن لیلیٰ نے فوری طور پر یہ واضح کیا کہ یہ اس منصوبے کی کامیابی کی واحد وجہ نہیں تھی یہ کہہ کر کہ صارفین شرقِ اوسط کے منفرد اور اصلی پکوانوں کو پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے کنافے ڈش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی قسم کے تغیرات کے ساتھ نہیں بنتی۔ انہوں نے کہا کہ جو چیز فلسطین سویٹس کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کو شرقِ اوسط کے مستند میٹھے پکوان پیش کرنے والی واحد جگہ ہے۔

لیلیٰ نے کہا، "اسے مکمل طور پر بالخصوص عرب اور فلسطینی چلاتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنی اصل تراکیب ہیں۔"

اور لیلیٰ کے بقول اس کا صلہ بھی مل رہا ہے۔ ان کے گاہکوں میں سے ایک حصہ ایسے شوقین افراد کا ہے جو ایک نئی ڈش کو صرف یہ دیکھنے کے لیے آزمانا چاہتے ہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے البتہ زیادہ تر باقاعدہ گاہک ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمارے پاس بہت سارے گاہک ہیں جو بہت بہت وفادار ہیں۔ کچھ تو ہر ہفتے کم از کم ایک بار آرڈر دیتے ہیں۔ یہ ان کی کھانے کی میز کا مستقل حصہ بن گیا ہے۔"

کراچی میں ان کے کچھ گاہک عرب بھی ہیں جو ان کی کھانے کی اشیا سے یکساں محبت کرتے ہیں۔ لیکن بہت مختلف وجوہات کی بناء پر۔

ایمان علی نے وضاحت کی، "وہ مجھے خوبصورت تاثرات دیتے ہیں کہ یہ پرانی یادوں کی بات ہے۔ اس نے انہیں شرقِ اوسط میں ان کے دادا دادی اور خاندانوں کی یاد دلا دی بالخصوص جب وہ رمضان کے دوران قطایف کھاتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں