کینیڈا جا کرغائب ہونے والےدوملازمین کی واپسی کےلیےکینیڈین حکام سےمدد لیں گے:پی آئی اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان انٹرنینشل ایئرلائنز اپنے دو کارکنوں کے کینیڈا میں غائب ہو جانے کے سلسلے میں پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور کینیڈا کے حکام سے مدد حاصل کرے گی۔ تاکہ ان کارکنوں کو واپس لایا جا سکے۔

پی آئی اے کے یہ دونوں کارکن اسی ہفتے پی آئی اے کی پرواز کے ساتھ ٹورنٹو پہنچنے کے بعد اچانک غائب ہو گئے تھے۔ دو برسوں کے دوران پی آئی اے کے کارکنوں کے غائب ہونے کا یہ دسواں واقعہ ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان نے ہفتہ کے روز اس تازہ واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا۔

یہ واقعہ حالیہ برسوں کے ان واقعات کی ایک کڑی ہے جس کے تحت پاکستانی شہری یورپ اور شمالی امریکہ کے ترقی یافتہ ممالک میں غلط ذرائع اختیار کر کے جا بسنا چاہتے ہیں یا ان کی شہریت لینا چاہتے ہیں۔ تاکہ یہاں کے مقابلے میں ترقی یافتہ ملکوں میں رہ کر زیادہ پرآسائش زندگی گزار سکیں۔

پچھلے سال غیر قانونی طور پر کینٹینرز اور بحری جہازوں کے ذریعے جانے والے 750 تارکین وطن یونانی سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ ان میں سے 350 کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اس کے نتیجہ میں فیصلہ ہوا کہ پاکستان یونانی حکام کے ساتھ تارکین وطن کی غیرقانونی آمد و رفت کو روکنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے۔ تاکہ انسانی سمگلنگ کا یہ سلسلہ روکا جا سکے اور اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔

تازہ واقعہ پی آئی اے کے دو کارکنوں کے حوالے سے پیش آیا ہے۔ ان میں سے ایک کا نام جبران بلوچ اور دوسرے کا نام مریم رضا ہے۔ دونوں بالترتیب فلائیٹ سٹیورڈ اور ایئر ہوسٹس ہیں۔ جو پی آئی اے کی پرواز پی کے 782 کے ذریعے 29 فروری کو ٹورنٹو پہنچے اور واپسی پر وہ پرواز کے ساتھ نہیں آئے۔ انہیں پی کی 784 کے ذریعے ٹورنٹو سے کراچی آنا تھا۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے کہا 'کینیڈین امیگریشن حکام اور ایف آئی اے کی مدد سے پی آئی اے کے دونوں کارکنوں کو تلاش کرنے اور ان کو واپس لانے میں مدد حاصل کی جائے گی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں