بین الاقوامی کلائنٹس کی جانب سےپاکستانی فری لانسرزکے لیے پے پال کی ترسیلات دستیاب ہیں

مالیاتی فریب اور منی لانڈرنگ کے مسائل پر خدشات کی وجہ سے پے پال پاکستان میں موجود نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے سبکدوش ہونے والے عبوری وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی عمر سیف نے ہفتے کے روز ملک کے آن لائن فری لانسرز کو ایک مثبت خبر سنائی اور کہا کہ وہ اس ماہ سے بین الاقوامی کلائنٹس کو فراہم کی جانے والی خدمات کے لیے پے پال کی ترسیلات براہِ راست اپنے بینک اکاؤنٹس میں وصول کر سکیں گے۔

اب تک پاکستان میں پے پال کی عدم موجودگی سے فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے کافی رکاوٹیں تھیں کیونکہ بیرونِ ملک سے آسانی اور محفوظ طریقے سے ادائیگیاں حاصل کرنے کی صلاحیت محدود تھی۔ یہ مسئلہ انفرادی فری لانسرز سے آگے بڑھ کر پاکستان میں وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کو متأثر کرتا ہے، وہ معیشت جس نے نوجوان پیشہ ور افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد کو بیرونِ ملک سے انٹرنیٹ پر مبنی منصوبے شروع کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔

ماضی میں ان میں سے بہت سے لوگوں نے بار بار حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے کہ پے پال ان کے کاروبار کو سہولت فراہم کرتے ہوئے اپنی خدمات کو ملک تک بڑھائے۔ تاہم بین الاقوامی ادائیگی کمپنی پے پال نے کاروبار کے مواقع کی کمی اور دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں اپنا ادارہ قائم کرنے سے انکار کردیا۔

وزیر نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "پاکستان کے آن لائن فری لانسرز اس ماہ سے شروع ہونے والے تین فریقی انتظامات کے ذریعے پے پال کی ترسیلات وصول کر سکیں گے جس کے لیے پے پال والیٹ بنانے کی ضرورت نہ ہو گی۔"

انہوں نے مزید کہا، "مقصد اس بات کو ممکن بنانا ہے کہ وہ ایک تھرڈ پارٹی ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے بیرونِ ملک اپنے کلائنٹس سے پے پال کی ادائیگیاں قبول کر سکیں جو پاکستان کو ڈالر بھیجنے کے لیے ایک بین الاقوامی ترسیلاتِ زر کا طریقہ کار استعمال کرے گا اور پاکستان میں فری لانسر کے بینک اکاؤنٹ میں فوری طور پر کریڈٹ کر دے گا۔"

سیف نے کہا کہ پاکستان کا سٹیٹ بینک فری لانسرز کو اپنے ڈیجیٹل والیٹ کے عوض اکاؤنٹس کھولنے، ڈیبٹ کارڈ جاری کرنے اور ڈالر اکاؤنٹس بنانے کی اجازت دے گا تاکہ وہ اپنی کمائی کو آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔

انہوں نے کہا، "فری لانسرز پی ایس ای بی [پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ] کے ساتھ رجسٹر ہو سکیں گے اور انہیں صرف 0.25 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہمارے 10,000 ای روزگار مراکز بنانے کے منصوبے کے ساتھ یہ پاکستان کو ہمارے آن لائن فری لانسرز کی کمائی کی صلاحیت سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں