" بھارت کی طرف سے گاڑیاں بنانے والی پاکستانی کمپنی کا سامان ضبط کرنا قابل مذمت ہے "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کی طرف سے سامان بردار بحری جہاز کو روکنے اور سامان ضبط کرنے کی پاکستان کے دفتر خارجہ نے مذمت کی ہے۔ یہ جہاز کراچی کے لیے رواں دواں تھا کہ اسے ممبئی کی بندرگاہ پر روک دیا گیا۔ بھارت نے اسے روکنے کی کارروائی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس جہاز پر فوجی ضرورت کے ممنوعہ آلات تھے۔ یہ آلات چین سے پاکستان کے لیے بھیجے گئے تھے۔

تاہم پاکستان کی طرف سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے کہ یہ جہاز فوجی سامان لا رہا تھا۔ پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جہاز پر پاکستان کی ایک گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے گاڑیوں کے آلات آ رہے تھے۔

واضح رہے بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس جہاز کو انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر روکا گیا اور اس پر موجود سامان دوہرے فوجی استعمال کا تھا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممنوعہ آلات کی ترسیل ممکن بنا رہاتھا جن کے فوجی استعمال پر پابندی ہے۔

ادھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے کے روز دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ' بھارتی میڈیا کی یہ رپورٹس میں لگائے گئے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔'

انہوں نے مزید کہا ' یہ کراچی کے ایک تجارتی ادارے کی طرف سے کمرشل لیتھ مشین کی درآمد کا ایک سادہ معاملہ تھا، جو پاکستان میں آٹوموبائل انڈسٹری کو پرزے فراہم کرتا ہے، نیز اس سامان کی تفصیل بھی واضح طور پر اس کے ہمراہ موجود ہے۔ جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ جہاز کس قسم کے پرزے پاکستان لا رہا تھا۔'

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا' اس سامان کے سلسلے میں بین الاقوامی لین دین تمام متعلقہ دستاویزات کے ساتھ شفاف بینکنگ چینلز کے ذریعے کیا گیا ، اس لیے اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو بھارتی میڈیا کی طرف سے کی جارہی ہے۔

اس لیے پاکستان تجارتی سامان کو ضبط کرنے میں ہندوستانی کردار کی مذمت کرتا ہے کہ یہ آزاد تجارت میں رکاوٹ پیدا کرنے والی بات ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں