سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کی کارروائی چیئرمین سکندر سلطان راجہ اور چار دیگر اراکین (نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس (ر) اکرام اللہ خان) نے سنی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 1-4 کے تناسب سے فیصلہ جاری کیا گیا ہے، اس میں ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلاف کیا۔

ممبر الیکشن کمیشن پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اس حد تک میں چاروں ممبران سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں دی جا سکتیں مگر میرا نکتا یہ ہے کہ یہ مخصوص نشستیں باقی سیاسی جماعتوں میں بھی تقسیم نہیں کی جا سکتیں۔

ممبر پنجاب نے کہاکہ یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے تحت خالی رکھی جائیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان اسمبلی نے انتخابات کے بعد سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن کو درخواست دی تھی کہ انہیں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دی جائیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب شاہین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

ماہر قانون اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر علی ظفر نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے تمام اراکین سے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص سیٹیں نہ دینے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں، آئین کے مطابق مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی 23 نشستیں بنتی ہیں اور ہماری نشستیں کسی اور جماعت کو دینا آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں