نو منتخب وزیراعظم پاکستان کی پہلے خطاب میں غزہ سے متعلق متحدہ مؤقف کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں وحشیانہ اسرائیلی بمباری کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں ایک متحدہ مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے پر پارلیمان کے ایوان زیریں سے اپنے پہلے خطاب میں کیا ہے۔

پاکستان مسلم دنیا کے ان اہم ممالک میں سے ہے جو فلسطین کاز کے ساتھ اپنے بانیان کے دور یعنی اپنے وجود میں آنے سے بھی پہلے سے ایک متفقہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے جو فلسطین کی آزاد ریاست کے حق میں اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اصولی مؤقف پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

تاہم نو منتخب وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کوئی بڑا اعلان یا بڑی بات کرنے کے بجائے مکمل رسمی انداز میں اپنی عوام سے اپیل کی ہے کہ فلسطین کاز کے حق میں اور غزہ میں اسرائیلی بمباری کے خلاف پاکستان کو ایک واضح اور متفقہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا 'غزہ میں جاری قتل عام اور اسرائیلی بمباری کا یہ وحشیانہ پن پوری دنیا نے نہ کبھی دیکھا نہ سنا اور بدقسمتی سے دنیا کا کوئی ادراہ اس یہودی ریاست کو وحشیانہ بمباری اور فلسطینیوں کے قتل عام سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ میں اس سلسلے میں اپنی عوام سے کہنا چاہتا ہوں اور پورے پاکستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آئیں ہم اس پر اکھٹے ہو کر ایک مؤقف اختیار کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم متحد ہو کر غزہ میں اسرائیل کی اس دشمنی اور جبر کے خلاف متحد ہو جائیں کیونکہ اس کا یہ جبر اسی طرح بدترین ہے جس طرح کشمیر میں ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس ایوان کو آج فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کے ساتھ ساتھ ان پر جاری ظلم کی بھرپور مذمت پر قرارداد منظور کرنی چاہیے۔'

خیال رہے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی بمباری سے غزہ کی پٹی پر 30 ہزار 410 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ تقریباً 75 ہزار کے قریب زخمی ہیں اور 23 لاکھ بےگھر ہیں۔ تاہم رمضان سے پہلے جنگ بندی کی توقع کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں