ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کی رائے سنتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آبدیدہ ہو گئے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے کیس کے ٹرائل اور اپیل کو 45 سال بعد فئیر ٹرائل کے تقاضوں کے منافی قرار دے دیا۔

صدارتی ریفرنس پر محفوظ کردہ رائے سناتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’’سابق وزیراعظم کا ٹرائل ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔‘‘

’’ذوالفقار علی بھٹو کی سزا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں لیکن جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کو درست نہیں کرسکتے۔ ہم حلف کے پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ تاریخ کے کچھ فیصلے ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ صورتحال سامنے آئی۔ ایڈوائزری دائرہ اختیار کے تحت صدارتی ریفرنس پر رائے دے سکتے ہیں۔‘‘

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔

آخری سماعت میں صنم بھٹو، آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو کے وکیل رضا ربانی کے دلائل دیئے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ’بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے۔ اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے۔ اس وقت استغاثہ فوجی آمر جنرل ضیاء تھے۔ اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے‘۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟‘اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا۔ 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے۔ اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی‘۔

اس موقع پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ’رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی‘؟ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ ’حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟‘جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی نو جج صاحبان تھے‘، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ہم بھی نو ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے‘۔

اس بات پر رضا ربانی نے کہا کہ ’اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا۔ اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس میں پوچھے گیا دوسرا سوال واضح نہیں اس لیے رائے نہیں دے سکتے، ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ چوتھا سوال سزا کا اسلامی اصولوں کے مطابق جائزہ لینے کا تھا، ریفرنس میں مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتے، اسلامی اصولوں پر کسی فریق نے معاونت نہیں کی، اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یا نہ ہونے پر رائے نہیں دے سکتے۔

’سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ‘

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے بھٹو صدارتی ریفرنس پر تاریخی فیصلہ دیا، ہم تفصیلی فیصلے کے منتظر ہیں، تفصیلی فیصلے کے بعد بھرپور بات کر سکوں گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے مانا کہ بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا، عدالت نے کہا ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے فیصلہ سنا رہےہیں، 45 سال بعد تاریخ درست ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس میں متفقہ رائے دی ہے، متفقہ فیصلے پرجج صاحبان اور وکلا کا شکرگزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان میں جمہوری و عدالتی نظام مضبوط ہو گا۔ امید ہے فیصلے سے ہمارا نظام صحیح سمت میں آگے جائے گا۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کی رائے سنتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آبدیدہ ہو گئے۔

قبل ازیں چار مارچ کو سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا تھا کہ کیا صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دی جا سکتی ہے؟ جس پر پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے جواب دیا تھا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لیے آرٹیکل 187 کا استعمال کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں۔

پس منظر

یاد رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کےخلاف اپریل 2011 میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو ہوئی تھی جو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔

تاہم حال ہی میں اس کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر سربراہی 12 دسمبر کو نو رکنی بینچ نے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا آغاز کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں